چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 432

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۲ چشمه معرفت ہے؟ پس یہ جرات اور بے با کی ہے کہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ روح اور ذرات خدا کی مخلوق نہیں کیونکہ وہ نیستی سے ہست نہیں کر سکتا اسی وجہ سے وہ دائمی نجات بھی نہیں دے سکتا گویا خدا کی تمام حد بست کر لی گئی ہے اور تمام طاقتیں اُس کی انسان نے جانچ لی ہیں اور وہ محدود ہو گیا ہے۔ اے ہم وطن پیارو! یہ باتیں صحیح نہیں ہیں اور میں کبھی تسلیم نہیں کروں گا کہ اگر ایسی عبارت کوئی وید میں ہے تو وید کا یہی منشاء ہے جو آپ نے سمجھ لیا ہے۔ ہم خدا کی (10) عمیق در عمیق قدرتوں تک کہاں پہنچ سکتے ہیں ہر ایک امر اُس کا ہمارے علم سے بلند تر ہے۔ کیا جس نے سورج اور چاند اور ستارے بنائے اور زمین کو ہمارے رہنے کے لئے بچھا یا ہم کوئی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان چیزوں کے بنانے کے لئے وہ مدت اُس کو درکار تھی جو انسان کو کسی چیز کے بنانے میں درکار ہوتی ہے؟ کیا کوئی بیان کر سکتا ہے کہ ان چیزوں کے لئے کن چھکڑوں پر مصالح آیا تھا یعنی اینٹیں وغیرہ اور کن معماروں نے بنایا تھا ؟ بلکہ اس کے حکم سے سب چیزیں بن گئیں۔ تو کیا ہم انسان کے کاموں پر اُس کے کاموں کا قیاس کر سکتے ہیں؟ جو شخص اس کی قدرتوں پر محیط ہونا چاہتا ہے وہ دراصل اُس کا منکر ہے خدا نے ہمیں صرف اتنا علم دیا ہے کہ یہ تمام روحیں اور سب چیزیں خدا کے کلے ہیں یعنی کلمہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ایک ربوبیت کا بھید ہے اور اُس کے کارخانہ قدرت میں ہزاروں اسرار ہیں کون اُن کو حل کر سکتا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ میں نے عالم کشف میں اپنے خدائے ذوالجلال کو تنگی طور پر دیکھا اور میں نے کئی پیشگوئیاں لکھ کر چاہا کہ اس پر دستخط کرالوں اور عالم مثالی میں خدا تعالیٰ کی تمنلی صورت مجھے نظر آئی اور جب میں نے وہ کاغذ پیش کیا تو خدائے عز و جل نے سُرخی کی سیاہی سے اُس پر دستخط کر دیئے اور دستخط کرنے سے پہلے قلم کو چھڑ کا تو وہ سرخ رنگ کا پانی میرے کپڑوں پر پڑا اور ایک مخلص عبداللہ نام سنور کا رہنے والا جو ریاست پٹیالہ میں ملازم ہے وہ میرے پاس بیٹھا تھا اس پر بھی وہ پانی سرخ رنگ کا