چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 428

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲۸ چشمه معرفت ور نہ اس کا سبب کیا ہے؟ کہ جس طرح قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی سے انسان جماعت اولیاء اللہ میں داخل ہوسکتا ہے۔ اُن کتابوں میں یہ خاصیت پائی نہیں جاتی اور یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں کے پیرو ان کمالات سے منکر ہیں جو انسان کو قرب کے مکان میں حاصل ہو سکتے ہیں بلکہ وہ کرامات اور خرق عادات پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں مگر ہم اُن پر کوئی ہنسی ٹھٹھا نہیں کرتے ہاں اُن کی محرومی کو دیکھ کر رونا ضرور آتا ہے۔ میں اس جگہ کچھ گذشتہ قصوں کو بیان نہیں کرتا بلکہ میں وہی باتیں کرتا ہوں جن کا مجھے ذاتی علم ہے۔ میں نے قرآن شریف میں ایک زبر دست طاقت پائی ہے۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ایک عجیب خاصیت دیکھی ہے جو کسی مذہب میں وہ خاصیت اور طاقت نہیں اور وہ یہ کہ سچا پیر و اس کا مقامات ولایت تک پہنچ جاتا ہے خدا اس کو نہ صرف اپنے قول سے مشرف کرتا ہے بلکہ اپنے فعل سے اُس کو دکھلاتا ہے کہ میں وہی خدا ہوں جس نے زمین و آسمان پیدا کیا تب اس کا ایمان بلندی میں دور دور کے ستاروں سے بھی آگے گذر جاتا ہے۔ چنانچہ میں اس امر میں صاحب مشاہدہ ہوں خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور ایک لاکھ سے بھی زیادہ میرے ہاتھ پر اُس نے نشان دکھلائے ہیں۔ سو اگر چہ میں دنیا کے تمام نبیوں کا ادب کرتا ہوں اور اُن کی کتابوں کا بھی ادب کرتا ہوں مگر زندہ دین صرف اسلام کو ہی مانتا ہوں کیونکہ اس کے ذریعہ سے میرے پر خدا ظاہر ہوا۔ جس شخص کو میرے اس بیان میں شک ہو اُس کو چاہیے کہ ان باتوں کی تحقیق کے لئے کم سے کم دو ماہ کے لئے میرے پاس آجائے میں اُس کے تمام اخراجات کا جو اس کے لئے کافی ہو سکتے ہیں اس مدت تک متکفل رہوں گا۔ میرے نزدیک مذہب وہی ہے جو زندہ مذہب ہو۔ اور زندہ اور تازہ قدرتوں کے نظارہ سے خدا کو دکھلاوے ورنہ صرف دعوی صحت مذہب پیچ اور بلا دلیل ہے۔