چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 425

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲۵ چشمه معرفت اُن کے حق میں فرماتا ہے وَأَيَّدَهُمْ بِرُوچ مِنْهُ لے یعنی خدا نے ایک پاک رُوح کے ساتھ ۵۷) اُن کی تائید کی۔ وہ وہی غیبی طاقت تھی جو ایمان لانے کے بعد اور کسی قدر صبر کرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے۔ پھر وہ لوگ اس طاقت کے حاصل ہونے کے بعد نہ صرف اس درجہ پر رہے کہ اپنے عیبوں اور گناہوں کو محسوس کرتے ہوں اور اُن کی بدبو سے بیزار ہوں بلکہ اب وہ نیکی کی طرف اس قدر قدم اٹھانے لگے کہ صلاحیت کے کمال کو نصف تک طے کر لیا اور کمزوریوں کے مقابل پر نیک اعمال کی بجا آوری میں طاقت بھی پیدا ہوگئی اور اس طرح پر درمیانی حالت اُن کو حاصل ہوگئی اور پھر وہ لوگ رُوح القدس کی طاقت سے بہر دور ہو کر ان مجاہدات میں لگے کہ اپنے پاک اعمال کے ساتھ شیطان پر غالب آجائیں۔ تب انہوں نے خدا کے راضی کرنے کے لئے اُن مجاہدات کو اختیار کیا کہ جن سے بڑھ کر انسان کے لئے متصور نہیں انہوں نے خدا کی راہ میں اپنی جانوں کا خس و خاشاک کی طرح بھی قدر نہ کیا آخر وہ قبول کئے گئے اور خدا نے اُن کے دلوں کو گناہ سے بکلی بیزار کر دیا اور نیکی کی محبت ڈال دی جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیا کرتے ہیں ۔ غرض ایمان لانے والوں کے تین درجے ہیں ۔ ظالم - مقتصد ۔ سابق بالخیرات ۔ ظالم ہونے کی حالت میں انسان اپنی بداعمالی کی حالت کو محسوس کر لیتا ہے۔ اور مقتصد ہونے کی حالت میں نیکی کے بجالانے کی توفیق پاتا ہے مگر پورے طور پر بجا نہیں لا سکتا۔ اور سابق بالخیرات ہونے کی حالت میں جہاں تک اس کی فطرت کی طاقت ہے پورے طور پر نیکی بجالاتا ہے اور نیک اعمال کے بجالانے میں آگے سے آگے دوڑتا ہے۔ اور اس درجہ پر انسان کو خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور قدرت کا اس قدر علم ہو جاتا ہے کہ گویا وہ اس کو دیکھتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ خود اس کو اپنے خارق عادت تصرفات کے ساتھ راہ دکھا دیتا (۵۸) ہے۔ روح القدس کی تائید جو مومن کے شامل حال ہوتی ہے وہ محض خدا تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے المجادلة : ۲۳ - العنكبوت : ۷۰