چشمہٴ معرفت — Page 424
۴۲۴ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ کرتا اور نیکیوں کی طرف حرکت کرتا ہے اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں (۵۲) اشارت فرمائی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَمِنْهُمْ ظَالِم لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقُ بِالْخَيْراتِ یعنی ایماندار تین قسم کے ہیں (۱) اول وہ جو ظالم ہیں لے یعنی انواع و اقسام کے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور گناہ کا پلہ اُن کا بھاری ہوتا ہے (۲) دوسرے وہ جو میانہ رو ہیں یعنی کچھ تو گناہ کرتے ہیں اور کچھ نیک اعمال۔ اور دونوں حالتوں میں مساوی ہوتے ہیں (۳) اور تیسرے درجہ کے وہ لوگ ہیں جو عمدہ اخلاق اور عمدہ اعمال میں سبقت لے جاتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ جو صدر اسلام کا وقت تھا اس زمانہ پر ایک وسیع نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے کیونکر ایمان لانے والوں کو مذکورہ بالا ادنی درجہ سے اعلیٰ درجہ تک پہنچا دیا کیونکہ ایمان لانے والے اپنی ابتدائی حالت میں اکثر ایسے تھے کہ جس حالت کو وہ ساتھ لے کر آئے تھے وہ حالت جنگلی وحشیوں سے بدتر تھی اور درندوں کی طرح اُن کی زندگی تھی اور اس قدر بد اعمال اور بداخلاق میں وہ مبتلا تھے کہ انسانیت سے باہر ہو چکے تھے اور ایسے بے شعور ہو چکے تھے کہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہم بد اعمال ہیں یعنی نیکی اور بدی کی شناخت کی حس بھی جاتی رہی تھی ۔ پس قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے جو پہلا اثر اُن پر کیا تو وہ یہ تھا کہ اُن کو محسوس ہو گیا کہ ہم پاکیزگی کے جامہ سے بالکل برہنہ اور بداعمالی کے گند میں گرفتار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ اُن کی پہلی حالت کی نسبت فرماتا ہے: أُولَيْكَ كَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ یعنی یہ لوگ چار پائیوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور فرقان حمید کی دلکش تاثیر سے اُن کو محسوس ہو گیا کہ جس حالت میں ہم نے زندگی بسر کی ہے وہ ایک وحشیانہ زندگی ہے اور سراسر بد اعمالیوں سے ملوث ہے تو انہوں نے رُوح القدس سے قوت پاکر نیک اعمال کی طرف حرکت کی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فاطر ۳۳ الاعراف : ۱۸۰