چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 421

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۲۱ چشمه معرفت ایک بات میں شاہانہ قدرت بھری ہوئی ہوتی ہے۔ وہ ایسی پیشگوئیاں اُس پر ظاہر کرتا ہے جن میں اُس کی عزت اور اُس کے دشمن کی ذلت ہو اور اُس کی فتح اور دشمن کی شکست ہو۔ غرض اسی طرح وہ اپنے کلام اور کام کے ساتھ اپنا وجود اُس پر ظاہر کر دیتا ہے ۔ تب وہ ہر ایک گناہ سے پاک ہو کر اُس کمال تک پہنچ جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور بغیر اس کے ممکن نہیں کہ کوئی کسی گناہ سے پاک ہو سکے۔ سب سے زیادہ انسان کے لئے مشکل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر اُس کو یقین آجاوے اور اس کے دل میں یہ ایمان پیدا ہو کہ اُس کی اطاعت سے دونوں جہانوں میں راحت اور آرام ملتا ہے اور اُس کی نافرمانی تمام دکھوں کی جڑھ ہے۔ پس اگر یہ معرفت پیدا ہو جائے تو پھر خود بخودانسان گناہ سے کنارہ کش ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ خداد دیکھ رہا ہے اور وہ قادر ہے کہ (۵۳) اسی دنیا کو اس کے لئے جہنم بنادے اور یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ جس کسی موذی چیز کا انسان کو علم ہو جاتا ہے اُس سے ہمیشہ بھاگتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے چُھونے میں میری ہلاکت ہے۔ مثلاً انسان کسی سانپ کے سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا کیونکہ یقین کرتا ہے کہ اُس سوراخ میں سانپ ہے۔ ایسا ہی انسان کسی زہر کو نہیں کھاتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ در حقیقت وہ زہر ہے اور ان موذی چیزوں سے بچنے کے لئے اپنے تئیں کسی کفارہ کا محتاج نہیں دیکھتا اور نہ اس بات کی حاجت دیکھتا ہے کہ کوئی شخص صلیب پر چڑھے تا وہ ان موذی چیزوں سے نجات پاوے بلکہ فقط اُس کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اُس کو یقینی علم ہو جاوے کہ یہ موذی چیز ہے جس کو چھونے سے میری ہلاکت ہے۔ مثلاً جب اس کو معلوم ہو جاوے کہ اس سوراخ میں سانپ رہتا ہے اور یا یہ چیز زہر قاتل ہے تب اس علم کے بعد خود بخود اُس کی فطرت میں اس موذی چیز سے ایک خوف پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کے نزدیک نہیں جاتا بلکہ اُس سے بھاگتا ہے۔ مثلاً جب بیمار دیکھتا ہے کہ فلاں چیز کا کھانا اس کو نقصان کرتا ہے اور اُس کی جان کو سخت خطرہ میں ڈالتا ہے تو وہ ایسی