چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 414

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۴ چشمه معرفت سے صادر ہوتے ہیں اور غیر مردوں کو ملتی ہے تو ان تمام صورتوں میں خاوند کی رائے پر حصر رکھا گیا ہے کہ اگر وہ مناسب دیکھے تو چھوڑ دے مگر پھر بھی تاکید ہے اور نہایت سخت تاکید ہے کہ طلاق دینے میں جلدی نہ کرے۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم انسانی حاجات کے مطابق ہے اور اُن کے ترک کرنے سے کبھی نہ کبھی کوئی خرابی ضرور پیش آئے گی ۔ اسی وجہ سے بعض یورپ کی گورنمنٹوں کو جواز طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔ اب باقی رہا وہ مسئلہ جوانجیل میں نجات کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا مصلوب ہونا اور کفارہ ۔ اس تعلیم کو قرآن شریف نے قبول نہیں کیا اور اگر چہ حضرت عیسی کو قرآن شریف ایک برگزیدہ نبی مانتا ہے اور خدا کا پیارا اور مقرب اور وجیہ قرار دیتا ہے لیکن اس کو محض انسان بیان فرماتا ہے اور نجات کے لئے اس امر کو ضروری نہیں جانتا کہ ایک گناہ گار کا بوجھ کسی بے گناہ پر ڈال دیا جائے ۔ اور عقل بھی تسلیم نہیں کرتی که گناه تو زید کرے اور بکر پکڑا جائے ۔ اس مسئلہ پر تو انسانی گورنمنٹوں نے بھی عمل نہیں کیا۔ افسوس کہ نجات کے بارہ میں جیسا کہ عیسائی صاحبوں نے غلطی کی ہے ایسا ہی آریہ صاحبوں نے بھی اس غلطی سے حصہ لیا ہے اور اصل حقیقت کو بھول گئے ہیں کیونکہ آریہ صاحبان کے عقیدہ کی رُو سے تو بہ اور استغفار کچھ بھی چیز نہیں اور جب تک انسان ایک گناہ کے عوض وہ تمام جو نہیں نہ بھگت لے جو اس گناہ کی سزا مقررہ ہے تب تک نجات غیر ممکن ہے اور پھر بھی محدود۔ اور پر میشر اس بات پر قادر ہی نہیں کہ گناہ بخش دے اور کچی تو بہ جو در حقیقت ایک روحانی موت ہے اور ایک آگ ہے جس میں انسان پر میشر کو خوش کرنے کے لئے جلنا قبول کرتا ہے وہ کچھ چیز ہی نہیں اس سے نعوذ باللہ پر میٹر کی تنگ ظرفی ثابت ہوتی ہے اور جبکہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ تم اپنے قصورواروں کو بخشو اور اپنے نافرمانوں کو معافی دو اور آپ اس بات کا پابند نہیں ہے تو گویا وہ اپنے بندوں کو وہ خلق سکھلانا چاہتا ہے جو خود اُس میں موجود نہیں اس صورت میں ایسے مذہب کے پابند