چشمہٴ معرفت — Page 413
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۳ چشمه معرفت پہنچ جائیں۔ اور قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں میں سے اس کی تعلیم بھی ہے کیونکہ وہ انسانی فطرت اور انسانی مصالح کے سراسر مطابق ہے مثلاً توریت کی یہ تعلیم ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور انجیل یہ کہتی ہے کہ بدی کا ہرگز مقابلہ نہ کر بلکہ اگر کوئی تیری دائیں گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دے مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ جَزَ و سَيِّئَةِ سَيِّئَةً مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ لا یعنی بدی کا بدلہ تو اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور اس گناہ کے بخشنے میں وہ شخص جس نے گناہ کیا ہے اصلاح پذیر ہو سکے اور آئندہ اپنی بدی سے باز آ سکے تو معاف کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہو گا ورنہ سزا دینا بہتر ہوگا کیونکہ طبائع مختلف ہیں۔ بعض ایسی ہی ہیں کہ گناہ معاف کرنے سے پھر اس گناہ کا نام نہیں لیتے اور باز آجاتے ہیں ہاں بعض ایسے بھی ۴ ہیں کہ قید سے بھی رہائی پا کر پھر وہی گناہ کرتے ہیں سوچونکہ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہیں اس لئے یہی تعلیم ان کے مناسب حال ہے جو قرآن شریف نے پیش کی ہے اور انجیل اور توریت کی تعلیم ہرگز کامل نہیں ہے بلکہ وہ تعلیم انسانی درخت کی شاخوں میں سے صرف ایک شاخ سے تعلق رکھتی ہے اور وہ دونوں تعلیمیں اُس قانون کے مشابہ ہیں جو مختص القوم یا مختص المقام ہو مگر قرآنی تعلیم تمام طبائع انسانیہ کا لحاظ رکھتی ہے۔ انجیل کا حکم ہے کہ تو غیر عورت کو شہوت کی نظر سے مت دیکھ مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ تو ہر گز نہ دیکھ نہ شہوت کی نظر سے نہ بے شہوت کہ یہ کبھی نہ کبھی تیرے لئے ٹھوکر کا باعث ہوگا بلکہ ضرورت کے وقت خوابیدہ چشم سے نہ نظر پھاڑ کر ) رفع ضرورت کرنا چاہیے۔ اور انجیل کہتی ہے کہ اپنی بیوی کو بجز زنا کے ہرگز طلاق نہ دے مگر قرآن شریف اس بات کی مصلحت دیکھتا ہے که طلاق صرف زنا سے مخصوص نہیں بلکہ اگر مرد اور عورت میں باہم دشمنی پیدا ہو جاوے اور موافقت نہ رہے یا مثلاً اندیشہ جان ہو یا اگر چہ عورت زانیہ نہیں مگر زنا کے مقدمات اُس الشورى : ۴۱