چشمہٴ معرفت — Page 410
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۰ چشمه معرفت نشانوں اور خوارق میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اور توفیق سے سب پر غالب رہوں گا اور یہ غلبہ اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ میری روح میں کچھ زیادہ طاقت ہے بلکہ اس وجہ سے ہوگا کہ خدا نے چاہا ہے کہ اُس کے کلام قرآن شریف کی زبر دست طاقت اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت اور اعلیٰ مرتبت کا میں ثبوت دوں اور اُس نے محض اپنے فضل سے نہ میرے کسی ہنر سے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اُس کے عظیم الشان نبی اور اس کے قومی الطاقت کلام کی پیروی کرتا ہوں اور اس سے محبت رکھتا ہوں اور وہ خدا کا کلام جس کا نام قرآن شریف ہے جو ربانی طاقتوں کا مظہر ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں اور قرآن شریف کا یہ وعدہ ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا اور یہ وعدہ ہے کہ اَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ ے اور یہ وعدہ ہے کہ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا اس وعدہ کے موافق خدا نے یہ سب مجھے عنایت کیا ہے اور ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ جو لوگ قرآن شریف پر ایمان لائیں گے اُن کو مبشر خوا ہیں اور الہام دیئے جائیں گے یعنی بکثرت دیئے جائیں گے ورنہ شاذ و نادر کے طور پر کسی دوسرے کو بھی کوئی سچی خواب آسکتی ہے مگر ایک قطرہ کو ایک دریا کے ساتھ کچھ نسبت نہیں اور ایک پیسہ کو ایک خزانہ سے کچھ مشابہت نہیں اور پھر فرمایا کہ کامل پیروی کرنے والے کی رُوح القدس سے تائید کی جائے گی یعنی ان کے فہم اور عقل کو غیب سے ایک روشنی ملے گی اور اُن کی کشفی حالت نہایت صفا کی جائے گی اور اُن کے کلام اور کام میں تاثیر رکھی جائے گی اور اُن کے ایمان نہایت مضبوط کئے جائیں گے اور پھر فرمایا کہ خدا اُن میں اور اُن کے غیر میں ایک فرق بین رکھ دے گا یعنی بمقابل اُن کے باریک معارف کے جو اُن کو دئیے جائیں گے اور بمقابل ان کی کرامات اور خوارق کے جو اُن کو عطا ہوں گی دوسری تمام قو میں عاجز رہیں گی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا چلا آتا ہے اور اس زمانہ میں ہم خود اس کے شاہد رویت ہیں ۔ ا یونس ۶۵ ۲ المجادلة : ۳۲۳ الانفال: ۳۰