چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 411

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۱ چشمه معرفت یہ تو ہم نے قرآن شریف کی اُس زبر دست طاقت کا بیان کیا ہے جو اپنے پیروی کرنے والوں پر اثر ڈالتی ہے لیکن وہ دوسرے معجزات سے بھی بھرا ہوا ہے۔ اُس نے اسلام کی ترقی اور شوکت اور فتح کی اُس وقت خبر دی تھی جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے جنگلوں میں اکیلے پھرا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ بجز چند غریب اور ضعیف مسلمانوں کے اور کوئی نہ تھا اور جب قیصر روم ایرانیوں کی لڑائی سے مغلوب ہو گیا اور ایران کے کسری نے اُس کے ملک کا ایک بڑا حصہ دبا لیا تب بھی قرآن شریف نے بطور پیشگوئی کے یہ خبر دی کہ نو برس کے اندر پھر قیصر روم فتح یاب ہو جائے گا اور ایران کو شکست دے گا چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ ایسا ہی شق القمر کا عالی شان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے۔ قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اُس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ - وَإِنْ يَرَوْا آيَةً تُعْرِضُوا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ برا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے وہ بلا شبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افتر اخیال کر کے پھر بھی چپ رہتے ۔ بالخصوص جبکہ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تو اس حالت میں اُن کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا رد کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ القمر: ٣٢