چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 408

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰۸ چشمه معرفت بتلا دیا اور پھر ایسا اتفاق ہوا کہ لالہ شرمیت اور اس کے دوسرے بھائیوں نے اپنے قیدی بھائی کی طرف سے چیف کورٹ میں اپیل کیا اور پھر لالہ شرمیت نے مجھے کہا کہ آپ اپنے خدا سے دریافت کریں کہ اس اپیل کا انجام کیا ہو گا ۔ تب میں نے محض ہمدردی کے لحاظ سے پھر دعا کی کہ تا خدا تعالیٰ میرے پر انجام کھول دے ۔ تب عالم کشف میں میرے پر ظاہر کیا گیا کہ انجام یہ ہوگا کہ چیف کورٹ سے وہ مثل ضلع میں واپس آئے گی اور لالہ بسمبر داس لالہ شرمیت کے بھائی کی نصف قید تخفیف کی جائے گی مگر وہ بُری نہیں ہو گا لیکن اُس کا دوسرا رفیق خوشحال نام پوری قید بھگتے گا اور ایک دن بھی اُس کا تخفیف نہیں ہوگا اور وہ بھی بری نہیں ہوگا۔ میں نے یہ سب حالات انجام اپیل سے پہلے لالہ شرمیت کو سنا دیئے اور آخر کا ر ایسا ہی ظہور میں آیا ایک ذرّہ کا بھی فرق نہ پڑا۔ تب لالہ شرمیت نے میری طرف ایک رقعہ لکھا کہ آپ کی نیک بختی کی وجہ سے خدا نے یہ سب باتیں آپ پر کھول دیں یہ خدا کا فضل ہے کہ لالہ شرمیت اب تک قادیان میں زندہ موجود ہے اور قسم دینے سے تمام حالات سچ سچ بیان کرنے کے لئے مجبور ہوگا۔ اور میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بھی جس کو شائع کئے پچیس برس گزر گئے ہیں یہ تمام قصہ شائع کر دیا ہے اب ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر یہ قصہ (۳۹) خلاف واقعہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ لالہ شرمیت اس قدر مدت تک خاموش رہتا اور اس قصہ کی تکذیب شائع نہ کرتا اور مجھے جھوٹھا نہ ٹھہراتا ۔ اور خود ظاہر ہے کہ ایسا کھلا کھلا جھوٹ بنانا ایک بڑے بدذات اور لعنتی کا کام ہے اور نیز سچ سے بھی وہی انکار کرے گا جس کو اپنے پر میشر ۲۵ کا ایک ذرہ بھی خوف نہیں اور نہ لعنت کا ڈر۔ اسی طرح ایک اور صاحب قادیان میں ہیں جن کا نام ملا وامل ہے اور لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل بڑے پر جوش آریہ ہیں اور یہی قادیان کی سماج کے بانی بھی ہوئے تھے اور شاید عرصہ تین برس کا گذرا ہوگا کہ لالہ ملا وامل مرض وق میں مبتلا ہو گیا اور ایک نرم اور دائگی تپ ایسا اُس کے پیچھے پڑا کہ دن رات چڑھا رہتا تھا تب وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا اور