چشمہٴ معرفت — Page 404
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۰۴ چشمه معرفت یہ نکتہ یادر ہے کہ بلاؤں کے ٹلنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ لوگ مسلمان ہو جائیں کیونکہ مذہبی غلطیوں کے مواخذہ کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ لوگ ہر ایک قسم کی بدچلنی سے باز آویں اور خدا کے پاک نبیوں کی نسبت بد زبانی سے پیش نہ آویں اور غریبوں پر ظلم نہ کریں اور صدقہ خیرات بہت کریں اور خدا کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں نہ پتھر کو نہ آگ کو نہ انسان کو نہ پانی کو نہ سورج کو نہ چاند کو اور تکبر اور شرارت کی راہوں کو چھوڑ دیں اور گورنمنٹ برطانیہ جس کے ماتحت وہ امن اور آسائش پا رہے ہیں اس کی ایزا کے لئے بھی پوشیدہ منصوبے نہ سوچیں اور اطاعت کریں کیونکہ بلاشبہ اس گورنمنٹ کا دونوں قوموں ہندوؤں اور مسلمانوں پر احسان ہے اور اس گورنمنٹ کے ایام سلطنت میں ایسی پرامن راتیں ہیں کہ سکھوں کے زمانہ میں ایسے دن بھی نہیں تھے سو اگر لوگ ایسا کریں کہ سب کیئے اپنے دلوں میں سے نکال دیں اور خدا سے بہت ڈریں تو یہ ایک رُوحانی ٹیکہ ہے کہ جس میں بلاشبہ شفا ہے۔ خدا نے کئی مرتبہ مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ یعنی یہ وبا جو دنیا پر نازل ہورہی ہے خدا کبھی اس میں تغیر وتبدل نہ کرے گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی تغییر و تبدیل نہ کر لیں ۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ انی احافظ كل من في الدار۔ لو لا الا كرام لهلك المقام۔ اني مع الرسول اقوم والــوم مــن يلوم وافطر واصوم۔ ولن ابرح الارض الى الوقت المعلوم۔ يعنى میں ان سب لوگوں کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہیں طاعون سے بیچاؤں گا اور اگر میں تیری عزت کا پاس نہ کرتا تو کل قادیان کو ہلاک کردیتا کیونکہ انہوں نے ہمسایہ ہوکر پھر بھی بدی کی ۔ اور میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور ملامت کرنے والے کو ملامت کروں گا اور میں افطار ۳۵) بھی کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور میرا عذاب اس ملک سے بھی علیحدہ نہ ہو گا جب تک وہ وقت نہ آجائے جو میں نے مقدر کیا ہے۔ اور روزہ اور افطار سے یہ مراد ہے کہ کبھی طاعون سخت