چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 401

روحانی خزائن جلد ۲۳ لد ۱۰ چشمه معرفت نے جو کچھ آج کے دن تک معلوم کیا ہے یہاں تک کہ سائینس کے پوشیدہ اسرار اور خواص کو عملی رنگ میں لا کر دکھلا دیا ہے اور ایسی کلیں اور صنعتیں ایجاد کی ہیں جو حیرت میں ڈالتی ہیں اور جو کچھ ارسطو اور افلاطون اور سقراط وغیرہ نے اپنے طور پر باریک درباریک حقائق اور معارف لکھے ہیں اور نفس کی بحث کو اپنے خیال میں انتہا تک پہنچایا ہے کیا ہم ان وجوہ سے اُن لوگوں کو نبی یا رسول کا خطاب دے سکتے ہیں یا اُن کی کتابوں کی اس کے نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ الہامی اور خدا کا کلام ہے؟ ہر گز نہیں ۔ اور یہ بات بھی کوئی صحیح حجت نہیں کہ فلاں کتاب پرانی اور قدیم زمانہ سے ہے اس لئے وہ خدا کی کتاب ہے کیونکہ اول تو اس دعوے کو منجانب اللہ ہونے کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں ماسوا اس کے یہ دعوی کئی قوموں نے پیش کیا ہے جیسا کہ پارسی نبیوں کی کتابوں نے یہی دعویٰ پیش کیا ہے اور جس نے کتاب دسا تیر کو دیکھا ہوگا اسے خوب معلوم ہوگا کہ پارسیوں کی کتاب قدامت کے دعوے میں وید سے آگے بڑھ گئی ہے۔ اُن کی مدت قرار دادہ کے مقابل پر ہزارم حصہ تک بھی دید نہیں پہنچتا۔ پس کس حج کو یہ فرصت ہے کہ دونوں کتابوں کا مقابلہ کر کے یہ فیصلہ کرے کہ قدامت کے دعوے میں صادق کون اور کا ذب کون ہے اور فرض کے طور پر اگر کسی کتاب کا قدیم ہونا قبول بھی کر لیں تو کیا اس سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ خدا کا کلام ہے۔ یا درکھو اور خوب یا درکھو کہ اس مقدمہ میں آخر کار اسی کتاب کے حق میں ڈگری ہوگی کہ جو انسانی کلام کے مقابل پر کھلے کھلے طور پر کوئی ما بہ الامتیاز پیش کرتی ہو کیونکہ جبکہ خدا کا فعل کہ جو اس کے عملی تصرفات ہیں انسان کے فعل سے امتیاز کلی رکھتا ہے یہاں تک کہ ایک مکھی کی مانند بھی بنانا انسان کی قدرت سے باہر ہے تو پھر