چشمہٴ معرفت — Page 397
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۷ چشمه معرفت حملوں پر ایک زمانہ دراز تک صبر کر کے آخر نہایت مجبوری سے محض دفاعی طور پر جنگ شروع کیا گیا تھا تو پھر یہ خیالات کہ کوئی خونی مہدی یا مسیح آئے گا اور جبرا دین پھیلانے کے لئے لڑائیاں کرے گا۔ ان خیالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مہدی اور مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کی مخالفت کرے گا اور اپنی روحانی کمزوری کے سبب تلوار کا محتاج ہوگا ۔ پس ان خیالات سے بڑھ کر اور کون سا خیال لغو ہوسکتا ہے جس امر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنا نہیں چاہا اور صدہا مصیبتیں دیکھیں اور پھر صبر کیا وہ امر مہدی اور مسیح کے لئے کیوں کر جائز ہو جائے گا۔ ایسا ہی ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے جو مسیح موعود کے بارے میں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں اَخْرَجْتُ عِبَادًا لَّى لَا يَدَ انِ لِقِتَالِهِمْ لَاحَدٍ فَأَحْرِزُ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ یعنی اے آخری مسیح میں نے اپنے ایک بندے ایسی طاقتور زمین پر ظاہر کئے ہیں (یعنی یورپ کی قومیں ) کہ کسی کو اُن کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ پس تو اُن سے جنگ نہ کر بلکہ میرے بندوں کو طور کی پناہ میں لے آیعنی تجلیات آسمانی اور روحانی نشانوں کے ذریعہ سے اُن بندوں کو ہدایت دے۔سو میں دیکھتا ہوں کہ یہی حکم مجھے ہوا ہے۔ اب واضح ہو کہ ان بندوں سے مراد یوروپ کی طاقتیں ہیں جو تمام دنیا میں ۲۷ ہے پھیلتی جاتی ہیں اور طور سے مراد تجلیات حقہ کا مقام ہے جس میں انوار و برکات اور عظیم الشان معجزات اور ہیبت ناک آیات صادر ہوتی ہیں اور خلاصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو وہ اُن زبر دست طاقتوں سے جنگ نہیں کرے گا بلکہ دین اسلام کو زمین پر پھیلانے کے لئے وہی چمکتے ہوئے نور اُس پر ظاہر ہوں گے جو موسیٰ نبی پر کوہ طور میں ظاہر ہوئے تھے پس طور سے مراد چمکدار تجلیات الہیہ