چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 386

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۶ چشمه معرفت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے اُن کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے اُن کو یاد کرتے ہیں۔ آپ یا د رکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں ۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے با زنہیں آتے وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے مگر ہر ایک فتح آسمان ام سے آتی ہے ۔ پاک زبان لوگ اپنی پاک کلام کی برکت سے انجام کار دلوں کو فتح کر لیتے ہیں مگر گندی طبیعت کے لوگ اس سے زیادہ کوئی ہنر نہیں رکھتے کہ ملک میں مفسدانہ رنگ میں تفرقہ اور پھوٹ پیدا کرتے ہیں ۔ کاش اگر دنیا کے لوگ ایسے اصول کے پابند ہوتے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے تو یہ ملک برکتوں سے بھر جاتا مگر یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس اصول کو پسند نہیں کیا جا تا ۔ آج آسمان کے نیچے صرف ایک ہی کتاب ہے جو اس اصول پر زور ڈالتی ہے کہ جن جن نبیوں او رسولوں کو دنیا کی قو میں صادق مانتی چلی آئی ہیں اور خدا نے عظمت اور قبولیت اُن کی دنیا کے بڑے بڑے حصوں میں پھیلا دی ہے وہ درحقیقت خدا کی طرف سے ہیں۔ زبان خلق نقار خدا ایک مشہور مثل ہے۔ پس جبکہ خدا نے کروڑوں انسانوں کے دلوں میں یہی الہام کیا کہ وہ لوگ سچے ہیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ خارق عادت کے طور پر اُن کی نصرت اور مدد بھی کی تو یہ ایک قوی دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت وہ خدا کے دوست ہیں اور اُن کی تو ہین خدا کی تو ہین ہے۔ اور تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا