چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 387

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۷ چشمه معرفت خدا کی غیرت اُس کے اُن پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں اور قرآن شریف میں صرف اسی قدر نہیں لکھا کہ دُنیا کے تمام بزرگوں کا نام عزت سے لو بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ ہر ایک قوم سے ہمدردی کرو جیسا کہ اپنی قوم ہے۔ اسی بنا پر مذہب اسلام میں جیسا کہ اپنی قوم سے سود لینا حرام ہے ایسا ہی دوسری قوموں سے بھی سود لینا حرام ہے بلکہ خدا نے یہ بھی فرمایا ہے کہ نہ صرف سود حرام ہے بلکہ اگر تمہارا قرض دار مفلس ہو تو اس کو قرض بخش دو یا کم سے کم یہ کہ اس وقت تک انتظار کرو کہ وہ قرض ادا کر نے کے لائق ہو جائے اور جیسا کہ قرآن شریف میں اپنی قوم کے لئے گناہ معاف (1) کرنے کا حکم ہے ایسا ہی دوسری قوموں کے لئے بھی یہی حکم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے : وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوْا لَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيم یعنی لوگوں کے گناہ بخشو اور اُن کی زیادتیوں اور قصوروں کو معاف کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہیں معاف کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو غفور و رحیم ہے۔ اور انجیل نے بھی صبر اور عفو کی تعلیم دی ہے مگر اکثر لوگوں کو شاید یہ بات یاد نہیں ہوگی کہ حضرت عیسی انجیل میں فرماتے ہیں کہ مجھے دوسری قوموں سے سروکار نہیں ۔ میں صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آیا ہوں یعنی میری ہمدردی صرف یہودیوں تک محدود ہے مگر قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ دوسری قوموں سے بھی ہمدردی کرو جیسا کہ اپنی قوم کے لئے اور دوسری قوموں کو بھی معاف کرو جیسا کہ اپنی قوم کو کیونکہ قرآن شریف میں یہ نہیں لکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے لئے بھیجے گئے ہیں بلکہ لکھا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے بھیجے گئے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : النور: ٢٣