چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 18

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۸ چشمه معرفت (10) میں بڑا فرق ہے اگر تمام ڈاکٹر اس بات کے لئے اکٹھے ہوں کہ انسان اپنی جسمانی طاقتوں اور جسم کی ضخامت میں ہاتھی کے برابر ہو جاوے تو یہ اُن کے لئے غیر ممکن ہے ۔ اور اگر یہ چاہیں کہ ہاتھی محض انسان کے قد تک محدود ہے تو یہ بھی اُن کے لئے غیر ممکن ہے پس اس جگہ بھی ایک تحدید ہے یعنی حد باندھنا جیسا کہ سورج اور چاند میں ایک تحدید ہے اور وہی تحدید ایک محمد د یعنی حد باندھنے والے پر دلالت کرتی ہے یعنی اس ذات پر دلالت کرتی ہے جس نے ہاتھی کو وہ مقدار بخشا اور انسان کے لئے وہ مقدار مقرر کیا۔ اور اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ان تمام جسمانی چیزوں میں عجیب طور سے خدا تعالیٰ کا ایک پوشیدہ تصرف نظر آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حد بندی مشاہدہ ہوتی ہے۔ اُن کیڑوں کی مقدار سے لے کر جو بغیر دور بین کے دکھائی نہیں دے سکتے اُن بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں۔ حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے کوئی جانور اپنے جسم کی رو سے اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتا۔ ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جا سکتے ۔ پس یہ حد بندی دلالت کر رہی ہے کہ دور پر وہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔ یہی معنی اس مذکورہ بالا کی آیت کے ہیں کہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے ۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کر سکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی روح کو با وجود مخنیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح ہر ایک حیوان کی روح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کر سکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرر اور مقدر ہیں۔ پس جس طرح اجسام کی حد بندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے ۔ اسی طرح ارواح کی طاقتوں الفرقان :٣