چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 17

روحانی خزائن جلد ۲۳ 12 چشمه معرفت قرار دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا قرار داد ہے جس کی رو سے خدا تعالیٰ انسان کے برابر ٹھیر جاتا (۹) ہے حالانکہ انسان اُس کی کسی صفت میں اُس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ غرض آریوں کے پاس اس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ کیوں روح اور مادہ کو پر میشر کی ملکیت ٹھیراتے ہیں لیکن قرآن شریف نے وید کی طرح بے وجہ اور محض زبر دستی کے طور پر اللہ جل شانہ کو تمام ارواح اور ہر ایک ذرہ ذرو اجسام کا مالک نہیں ٹھیرایا بلکہ اس کی ایک وجہ بیان کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ خَلَقَ كُلِّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا ( ترجمہ ) یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اُسی نے پیدا کی ہیں اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کر دی ہے تا محدود چیزیں ایک محدد پر دلالت کریں جو خدا تعالیٰ ہے سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقید ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہو سکتے اسی طرح ارواح بھی مقید ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کر سکتے ۔ اب پہلے ہم اجسام کے محدود ہونے کے بارہ میں بعض مثالیں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مثلاً چاند ایک مہینہ میں اپنا دورہ ختم کر لیتا ہے یعنی انتیس یا تمیں دن تک مگر سورج تین سو چونسٹھ دن میں اپنے دورہ کو پورا کرتا ہے اور سورج کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے دورہ کو اس قدر کم کر دے جیسا کہ چاند کے دورہ کا مقدار ہے اور نہ چاند کی یہ طاقت ہے کہ اس قدر اپنے دورہ کے دن بڑھا دے کہ جس قد ر سورج کے لئے دن مقرر ہیں اور اگر تمام دنیا اس بات کے لئے اتفاق بھی کر لے کہ ان دونوں نیروں کے دوروں میں کچھ کمی بیشی کر دیں تو یہ ہرگز اُن کے لئے ممکن نہیں ہوگا اور نہ خود سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کہ اپنے اپنے دوروں میں کچھ تغیر تبدل کر ڈالیں۔ پس وہ ذات جس نے ان ستاروں کو اپنی اپنی حد پر ٹھیرا رکھا ہے یعنی جو اُن کا محدد اور حد باندھنے والا ہے وہی خدا ہے ۔ ایسا ہی انسان کے جسم اور ہاتھی کے جسم الحديد : ۲۳ الفرقان : ٣