چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 372

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمہ معرفت ۔ خاتمہ کتاب کے پیرو ہیں بلکہ شاکت مت والے بھی تو اسی قوم میں سے ہیں جو فسق و فجور میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ بدکاریوں کا میدان اس قدر انہوں نے فراخ کر دیا ہے جو حقیقی ماں یا بہن یا لڑ کی سے بھی حرام کاری کرنا کچھ مضائقہ نہیں سمجھتے کیا وہ آریہ نہیں ہیں۔ پھر جبکہ وید کی پیروی کرنے والے فسق و فجور اور شرک اور مخلوق پرستی میں اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ دنیا میں اُن کی نظیر نہیں مل سکتی تو کیا لا زم تھا کہ اسلام جیسے پاک مذہب پر اعتراض کیا جاتا ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اسلام میں کوئی بھی ایسا امر نہیں کہ جو ہندو مذہب کی کسی نہ کسی شاخ میں نہ پایا جا تا ہو؟ اور اسلام اپنی کامل توحید کے ساتھ ایسا مخصوص ہے کہ وید میں اس کا نمونہ تلاش کرنا لا حاصل ہے۔ تاہم ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ گو موجودہ تعلیم وید کی ایک گمراہ کرنے والی تعلیم ہے لیکن کسی زمانہ میں وہ ان بیہودہ تعلیموں سے پاک ہوگا۔ اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اس ملک میں خدا کے نبی ہوئے ہیں کیونکہ جس جگہ بیمار ہے اُس جگہ طبیب کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ آریہ صاحبوں نے مسلمانوں کو اپنے گھر پر بلا کر وہ گندہ نمونہ اپنے اخلاق کا دکھلایا جس کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے آخر شرافت بھی کچھ چیز ہے۔ راقم مرزا غلام احمد قادیانی ۲۰ مئی ۱۹۰۸ء