چشمہٴ معرفت — Page 373
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت بِمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سب سے پہلے اُس خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور نہ صرف ہمیں پیدا کیا بلکہ ہر ایک ذرہ ہمارے وجود کا اور اُن کی تمام قوتیں اور ایسا ہی ہماری تمام روحیں اور اُن کی تمام قو تیں اُس نے پیدا کیں کیونکہ وہ کامل خدا ہے نہ ناقص اور اُس کا فیض ہمارے تمام وجود پر محیط ہے نہ صرف بعض حصوں پر ۔ اور جیسا کہ وہ ہمارا پیدا کرنے والا ہے ایسا ہی وہ اپنی طاقت کے ساتھ ہمیں زندہ رکھنے والا ہے۔ ہم اُس کے سہارے کے بغیر جی ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم اُسی کے ہاتھ سے نکلے ہیں۔ ہاں اگر ہماری روحیں خود بخود ہوتیں تو بطور خود جی بھی سکتی تھیں کیونکہ اس صورت میں مستقل روحوں کو اُس کے سہارے کی ضرورت نہ تھی پس اُس خدا کا کہاں شکر ہو سکتا ہے جس کے فیض سے کوئی حصہ ہمارے وجود کا باہر نہیں ایسا ہی اس وقت ہمیں گورنمنٹ برطانیہ کا شکر کرنا بھی لازم ہے جس کی آزاد اور منصفانہ حکومت کی وجہ سے ہم بغیر کسی خوف کے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ بعد اس کے اے آریہ صاحبان! اب آپ کی خواہش اور تحریک کے موافق یہ مضمون آپ کے سوال تجویز کردہ کے متعلق اس جلسہ میں سنایا جاتا ہے اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا (۲) میں نے برعایت تہذیب اختصار سے کام لیا ہے مگر یہ بھی مناسب نہیں سمجھا کہ نا تمام لکھا جائے اب میں ذیل میں اصل مطلب بیان کرتا ہوں وبالله التوفيق۔ یہ سوال کہ جو آپ صاحبوں کی مجلس نے پیش کیا ہے کہ دنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کون؟