چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 16

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶ حصہ اوّل اُس بیانِ دروغ کے رڈ میں جو وید کی حمایت میں اور اُس کی خوبیوں کے اظہار کی غرض سے کیا گیا ہے۔ مضمون کے سنانے والے نے وید کے حوالہ سے اپنے مضمون میں بڑے زور سے بیان کیا کہ پر میشر روح اور مادہ کا مالک ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تو سچ ہے کہ وہ صانع عالم جان اور اجسام کے ہر ایک ذرہ کا مالک ہے مگر آریہ صاحبوں کے اصول کی رو سے وہ مالک نہیں ٹھیرتا کیونکہ پر میشر نے نہ ارواح کو پیدا کیا اور نہ ذرّات عالم کو بلکہ وہ یعنی روح اور مادہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ پر میشر کی طرح قدیم اور ا نا دی اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں تو پھر کیونکر پر میشر اُن کا مالک ٹھیر سکتا ہے جن پر اُن کا کوئی بھی حق نہیں۔ کیا پر میشر نے روحوں اور ذرات عالم کو اپنے پاس سے قیمت دے کر کسی سے خریدا تھا کیونکہ وہ اُن کا خالق تو نہیں۔ پس کوئی اور وجہ بیان کرنی چاہیے جس کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں کا جو اُس کی طرح قدیم اور خود بخود ہیں مالک سمجھا جائے کیونکہ بلا وجہ تو ہم کسی کی نسبت نہیں کہہ سکتے کہ وہ فلاں چیز کا مالک ہے اگر کہو کہ ملکیت پرانے قبضہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے جیسا کہ قانون انگریزی کا اصول ہے۔ اور کبھی ملکیت اس طرح بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ ایک سلطنت دوسری سلطنت سے جنگ کر کے اُس پر غالب آجاتی ہے۔ تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ کیا خدا کی ملکیت کا مفہوم انسانی ملکیت کے مفہوم سے برابر ہے۔ ظاہر ہے کہ چونکہ انسان ناقص ہے اس لئے انسان اُن تمام چیزوں کو جو اپنی ملکیت ٹھیراتا ہے وہ لفظ ملکیت بھی ناقص معنوں میں ہی لیا جاتا ہے مگر کسی چیز کو خدا تعالیٰ کی ملکیت اُن معنوں کے رو سے قرار دینا جن معنوں سے انسان کی ملکیت