چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 355

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۵۵ چشمہ معرفت ۔ خاتمہ کتاب آریوں میں سے ایک ایسا مقدس شخص پیدا کیا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اسلام سچا ہے اور جو تکذیب کرتے ہیں وہ اُن کے منہ پر تھوکتے ہیں پس اے وہ تمام لوگو! جو اس مقدس گورو کے سکھ ہو، خدا سے ڈرو ا صرف میں ہی تم کو ملزم نہیں کرتا بلکہ وہ مقدس بزرگ بھی تم کو ملزم کر رہا ہے جس کی پیروی کا تم کو دعوی ہے اگر تم اُس مقدس گورو کے بچے سکھ ہو تو ہندوؤں کا تعلق چھوڑ دو جیسا کہ اُس نے چھوڑ دیا تھا اور اس پاک مذہب کی روشنی سے تم بھی نور حاصل کرو جس کے نور سے وہ بزرگ سر تا پا روشن ہو گیا تھا۔ اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو میرے قول کی پیروی مت کرو اور اگر میں سچ کہتا ہوں تو دھرم یہی ہے کہ سچ کو قبول کر لو۔ باوا نانک صاحب مسلمانوں کے گھر میں پیدا نہیں ہوئے تھے وہ آریہ قوم میں سے تھے مگر خدا کا الہام اُن کو اسلام کی طرف کھینچ لایا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے یہ مذہب اسلام اختیار کر کے بعض ہندوؤں سے بڑے دکھ اٹھائے مگر اپنی ثابت قدمی (۳۴۰) سے ہر ایک دکھ پر صبر کیا۔ انہوں نے بصیرت کی راہ سے اسلام کو قبول کیا نہ صرف تقلید کے طور پر ۔ آج کل کے آریہ پنڈت ایسے ہیں کہ جیسے ایک اندھا اندھے کی رہبری کرتا ہے مگر خدا نے با وانا تک صاحب کو آسمانی نور عطا کیا تھا اُسی نور سے انہوں نے دیکھ لیا کہ اسلام سچا ہے ۔ تب بصیرت کی راہ سے نہ تقلید کے طور پر ہر ایک کو انہوں نے اسلام کی طرف بلا نا شروع کیا اور کئی اسلامی بزرگوں کی خانقاہوں پر مجاہدات کئے اور تکالیف سفر ا ٹھا کر پیادہ پا مکہ معظمہ کا حج بھی کیا اور مدینہ منورہ میں پہنچ کر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کی اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اُن سے خوارق اور کرامات بھی ظہور میں آئے اور اُن کی روحانی کشش نے ہزاروں آدمیوں کو اپنی طرف کھینچا۔ یہ عجیب بات ہے کہ باوجود ظاہر ہونے کے پھر بھی عوام کی نظر میں پوشیدہ رہے اور غالباً اس میں حکمت یہ تھی کہ اگر وہ اُسی زمانہ میں مسلمان ہوکر ہندوؤں