چشمہٴ معرفت — Page 341
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۱ چشمه معرفت اور تا اسلام ہمیشہ مخالفوں پر غالب رہے۔ نادان آدمی جو دراصل دشمن دین ہے اس بات کو نہیں چاہتا کہ اسلام میں سلسلہ مکالمات مخاطبات الہیہ کا جاری رہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسلام بھی اور مردہ مذہبوں کی طرح ایک مردہ مذہب ہو جائے مگر خدا نہیں چاہتا ۔ نبوت اور رسالت کا لفظ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صد با مرتبہ استعمال کیا ، ہے مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات مخاطبات الہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پر مشتمل ہیں اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔ ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کر سکتا ہے لِكُلِّ أن يُصْطَلِحَ سوخدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اُس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور لعنت ہے اُس شخص پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے علیحدہ ہو کر نبوت کا دعوای کرے مگر یہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کی حقانیت دنیا پر ظاہر کی جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دکھلائی جائے۔ میں بار بار تمام دنیا پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں اسلام ہی صرف ایسا مذہب ہے (۳۲۶) جس کو زندہ مذہب کہنا چاہیے باقی تمام مذاہب قصوں کی پرستش میں گرفتار ہیں اور آریہ مذہب والے یوں تو ہر بات میں قانون قدرت کا حوالہ دیتے ہیں مگر اُن کے یہ دکھانے کے دانت ہیں کھانے کے دانت نہیں ہیں۔ اور صرف یہی نہیں کہ اُن کا مذہب آسمانی نشانوں سے بے نصیب ہے بلکہ اُن کا مذہب ہر ایک بات میں خدا کے قانون قدرت کے مخالف بھی ہے۔ مثلاً خدا کے قانون قدرت سے جانداروں کی پیدائش کی نسبت صریح یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہرگز اس طرح پیدا نہیں ہوتے جیسا کہ آریوں کا خیال ہے یعنی یہ کہ اُن کی روحیں شبنم