چشمہٴ معرفت — Page 335
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۵ چشمه معرفت در حقیقت دین وہی دین ہے جس کے ساتھ سلسلہ معجزات اور نشانوں کا ہمیشہ رہے تا اس دین کے پیرو کو بہت آسانی اور سہولت سے سمجھ آجائے کہ خدا موجود ہے لیکن جس دین میں خدا کے نشانوں کے ذکر کرنے کے وقت صرف قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے اُس کے ذریعہ سے خدا کی معرفت کیونکر حاصل ہو؟ دوستو ! خدا کے تازہ بتازہ نشانوں میں عجیب لذت ہے۔ اُس لذت کی کیفیت ہم کیوں کر بیان کر سکتے ہیں وہ کس قدر ایمان کی ترقی کا وقت ہوتا ہے جب کہ خدا کوئی غیب کی خبر ہمیں جتلا کر ثابت کرتا ہے کہ میں موجود ہوں اور ساتھ ہی کسی مشکل کو حل (۳۲۰) کر کے ظاہر کرتا ہے کہ میں قادر ہوں اور ہمارے دشمن کو ہلاک کر کے اپنی وحی سے ہمیں مطلع کرتا ہے کہ میں تمہارا مؤید اور مددگار ہوں اور ہمارے دوستوں کی نسبت ہماری دعائیں قبول کر کے ہمیں اطلاع دیتا ہے کہ میں تمہارے دوستوں کا دوست ہوں ۔ دشمنوں میں سے نمونہ کے طور پر میں بیان کرتا ہوں کہ آریوں میں سے لیکھرام نام ایک شخص اٹھا اور توہین اور تکذیب میں حد سے زیادہ گذر گیا آخر میرے خدا نے اُس کی ہلاکت کی مجھے خبر دی ۔ تب وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ سے مارا گیا جس کا آج تک پتہ نہ ملا کہ وہ کون تھا۔ پھر امریکہ میں عیسائیوں میں سے ایک شخص اٹھا جس کا نام ڈوئی تھا اور اُس نے گمان کیا کہ میں بھی کچھ ہوں اور رسالت کا دعوی کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ حضرت عیسی خدا ہیں اور یہ ظاہر کیا کہ گویا خدا کی طرف سے اُس کو یہی الہام ہوا ہے۔ میں نے اس کو لکھا کہ تو خدا پر افترا کرتا ہے اس لئے تو سخت تباہی کے ساتھ ہلاک ہو گا۔ سو اسی دن سے اُس کی تباہی شروع ہوئی یہاں تک کہ فالج کے عذاب میں مبتلا ہوکر مر گیا اور اپنی موت سے ثابت کر گیا کہ مفتری کا یہ انجام ہوتا ہے۔ ایسا ہی مسلمانوں میں سے ایک شخص جو قصور ضلع لاہور کا رہنے والا تھا اُٹھا اور نام اُس کا