چشمہٴ معرفت — Page 334
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۴ چشمه معرفت کر دے اور لوگ اسی جنگ و جدال میں مشغول ہوں گے کہ اس فیصلہ کے کرنے کے لئے خدا آسمان سے قرنا میں اپنی آواز پھونکے گا وہ قرنا کیا ہے؟ وہ اُس کا نبی ہوگا جو اُس کی آواز کو پاکر اسلام اور توحید کی طرف لوگوں کو دعوت کرے گا پس اس آواز کے ساتھ خدا تمام سعیدوں کو ایک جگہ جمع کر دے گا تب کوئی اسلام سے محروم نہیں رہے گا مگر وہی جس کو شقاوت ازلی نے روک رکھا ہوگا ۔ پس یقیناً سمجھو کہ یہ وہی دن ہیں جو خدا کے دن کہلاتے ہیں ۔ اگر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا تو یہ نئی بات نہیں۔ دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جس سے ٹھٹھا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا (۳۱۹) ب يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ لا یعنی بندوں پر افسوس! کہ کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس سے انہوں نے ٹھٹھا نہیں کیا۔ میرے مقابل پر جو میرے مخالف مسلمان مجھے گالیاں دیتے ہیں اور مجھے کا فر کہتے ہیں یہ بھی میرے لئے ایک نشان ہے کیونکہ انہیں کی کتابوں میں یہ اب تک موجود ہے کہ مہدی معہود جب ظاہر ہوگا تو اُس کو لوگ کا فر کہیں گے اور اُس کو ترک کر دیں گے اور قریب ہوگا کہ علمائے اسلام اُس کو قتل کر دیں چنانچہ ایک جگہ مجددالف ثانی صاحب بھی یہی لکھتے ہیں اور شیخ محی الدین ابن العربی صاحب نے بھی ایک مقام میں یہی لکھا ہے ۔ سو اس میں کچھ شک نہیں کہ باوجود ہزار ہانشانوں کے جو خدا نے میرے لئے دکھلائے پھر بھی میں سخت تکذیب کا نشانہ بنایا گیا ہوں اور میری کتابوں کے یہودیوں کی طرح معنے محرف مبدل کر کے اور بہت کچھ اپنی طرف سے ملا کر میرے پر صد با اعتراض کئے گئے ہیں کہ گویا میں ایک مستقل نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اور قرآن کو چھوڑتا ہوں اور گویا میں خدا کے نبیوں کو گالیاں نکالتا ہوں اور توہین کرتا ہوں اور گویا میں معجزات کا منکر ہوں۔ سو میری یہ تمام شکایت خدا تعالیٰ کے جناب میں ہے اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے میرے حق میں فیصلہ کرے گا کیونکہ میں مظلوم ہوں ۔ يس : ٣١