چشمہٴ معرفت — Page 333
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۳ چشمه معرفت دشمنوں کو ہلاک کیا یا اُن کے مقابل پر مجھے ہر ایک قسم کے انعام سے مشرف کیا اور اُن کو ذلت کی زندگی میں ڈالا یا ذلت کے ساتھ دنیا سے اٹھالیا۔ اور خدا نے میری تائید میں اس قسم کے نشان بھی ظاہر کئے کہ میرے وجود سے بھی پہلے بعض صلحاء نے میرا نام لے کر میرے ظہور کی خبر دی تھی اور بعض نے میرے ظہور سے تیس برس پہلے میرا نام لے کر اور میرے گاؤں کا نام لے کر میرے ظہور کی خبر دی۔ اور خدا نے میرے لئے ایک یہ بھی نشان ٹھہرایا کہ پہلے تمام نبیوں نے مسیح موعود کے ظہور کے لئے جس زمانہ کی خبر دی تھی اور جو تاریخی طور پر مسیح موعود کے ظہور کے لئے مدت مقرر کی تھی خدا نے ٹھیک ٹھیک مجھے اُسی زمانہ میں پیدا کیا ہو۔ ایسا ہی اسلام کے تمام اولیاء کا اس پر اتفاق تھا کہ اس مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی سے تجاوز نہیں کرے گا۔ اور حدیث الآيات بعد المائتين بھی اس پر دلالت کرتی تھی سوخدا نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے مامور اور مخاطب فرمایا۔ خدا نے قرآن شریف میں ایک جگہ یہ بھی فرمایا تھا کہ آخری زمانہ میں مذاہب کے جنگ ہوں گے اور دریا کی لہروں کی طرح ایک مذہب دوسرے مذہب پر گرے گا تا اُس کو نا بود جلا حاشیه بعض نا واقف یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں کہاں ذکر ہے ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ ان کے ایک نام اس کا خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے سو اس نام کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح موعود کے بارہ میں پیشگوئی موجود ہے چنانچہ سورۃ نور میں خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے آخری دنوں تک اُن کے دین کی تقویت کے لئے خلیفے پیدا کرتا رہے گا اور اُن کے ذریعہ سے خوف کے بعد امن کی صورت پیدا کر دے گا۔ آخری دنوں تک خلیفوں کا پیدا ہونا اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بموجب نص صریح قرآن شریف کے اسلام کا دور دنیا کے آخری دنوں تک ہے پس مانا پڑا کہ اسلام میں بھی ایک خاتم الخلفاء ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ کے سلسلہ میں حضرت عیسی خاتم الخلفاء تھے ۔ اور یہ عجیب راز ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسی حضرت موسی سے بموجب قول یہود کے چودہویں صدی میں پیدا ہوئے اسی طرح اسلام کا خاتم الخلفاء اسی مدت کے بعد مبعوث ہوا۔ منہ