چشمہٴ معرفت — Page 322
۳۲۲ روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت رہی ہے کہ ایک سال تک مکہ اور مدینہ میں ریل جاری کر دی جائے پس اُس وقت جب ۳۰۷ ریل جاری ہو جائے گی یہ نظارہ ہر ایک مومن کے لئے ایمان کو زیادہ کرنے والا ہوگا ۔ اور جس وقت ہزار ہا اونٹ بیکار ہو کر بجائے اُن کے ریل گاڑیاں مکہ سے مدینہ تک جائیں گی اور دمشق اور دوسری اطراف شام وغیرہ کے حج کرنے والے کئی لاکھ انسان ریل گاڑیوں میں سوار ہو کر مکہ معظمہ میں پہنچیں گے تب کوئی لعنتی آدمی ہوگا کہ اس نظارہ کو دیکھ کر اپنے سچے دل سے اس بات کی تصدیق نہیں کرے گا کہ وہ پیشگوئی جو قرآن شریف اور حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے آج پوری ہو گئی۔ یادر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کے لئے یہ ایک عظیم الشان نشان ہے کہ آپ نے تیرہ سو برس پہلے ایک نئی سواری کی خبر دی ہے اور اس خبر کو قرآن شریف اور حدیث صحیح دونوں مل کر پیش کرتے ہیں اگر قرآن شریف خدا کا کلام نہ ہوتا تو انسانی طاقت میں یہ بات ہرگز داخل نہ تھی کہ ایسی پیشگوئی کی جاتی کہ جس چیز کا وجود ہی ابھی دنیا میں نہ تھا اُس کے ظہور کا حال بتایا جاتا جب کہ خدا کو منظور تھا کہ اس پیشگوئی کو ظہور میں لاوے تب اُس نے ایک انسان کے دل میں یہ خیال ڈال دیا کہ وہ ایسی سواری ایجاد کرے جو آگ کے ذریعہ سے ہزاروں کو سوں تک پہنچا دے۔ ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت اور بھی پیشگوئیاں ہیں اُن میں سے ایک یہ پیشگوئی بھی ہے وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ لا یعنی آخری زمانہ وہ ہوگا جب کہ کتابوں اور صحیفوں کی اشاعت بہت ہوگی گویا اس سے پہلے کبھی ایسی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔ یہ اُن کلوں کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ سے آج کل کتابیں چھپتی ہیں اور پھر ریل گاڑی کے ذریعہ سے ہزاروں کو سوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی ہے کہ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ ت یعنی آخری زمانہ میں ایک یہ واقعہ ہوگا کہ بعض نفوس بعض سے ملائے جاویں گے یعنی ملاقاتوں کے لئے آسانیاں نکل آئیں گی اور لوگ ہزاروں کو سوں سے آئیں گے اور ایک دوسرے سے التكوير: " "1