چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 321

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۲۱ چشمه معرفت پیشگوئی ہے کہ آخری زمانہ میں اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُن دنوں میں ایک نئی سواری پیدا ہو جائے گی ۔ چنانچہ قرآن شریف کی پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں وَإِذَا الْعِشَارُ عُقِلَتْ ا ا یعنی وہ آخری زمانہ جب اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور بے کار ہونا تبھی ہوتا ہے کہ جب اُن پر سوار ہونے کی حاجت نہ ہو اور اس سے صریح طور پر نکلتا ہے کہ اونٹنیوں کی جگہ کوئی اور سواری پیدا ہو جائے گی ۔ اس آیت کی تشریح کتاب صحیح مسلم میں موجود ہے اس میں یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہے وَيُشْرَكَ الْقِلَاصُ فلا يسعى عليها یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹیاں ترک کی جائیں گی اور کسی منزل تک جلدی پہنچنے کے لئے اور دوڑ کر جانے کے لئے وہ کام نہیں آئیں گی یعنی کوئی ایسی سواری پیدا ہو جائے گی کہ بہ نسبت اونٹنیوں کے بہت جلد منزل مقصود تک پہنچائے گی ۔ غرض يُسعی کا لفظ جو حدیث میں ہے اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ دوڑنے کے کام میں اونٹ سے بہتر کوئی اور سواری نکل آوے گی ۔ یہ عجیب بات ہے کہ صحیح مسلم میں جس جگہ مسیح موعود کے زمانہ کا ذکر ہے اُسی جگہ یہ حدیث اونٹنیوں کے ترک کرنے کے بارہ میں ہے اور یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تیرہ سو برس بعد پوری ہوئی چنانچہ ان دنوں میں یہ کوشش بھی ہو حاشیہ: قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت ایک یہ بھی پیشگوئی تھی کہ جب آخری زمانہ میں دوسرے آثار قیامت ظاہر ہوں گے اسی زمانہ میں ایک خاص وضع کا کسوف خسوف بھی ہوگا جیسا کہ اس آیت میں بھی اشارہ ہے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ کے یعنی سورج اور چاند جمع کئے جائیں گے۔ یہ آیت سورۃ قیامت کی ابتدائی سطروں میں ہے اور اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام سورۃ قیامت رکھا گیا ہے اور یہ کسوف خسوف آثار قیامت میں سے ٹھہرایا گیا ۔ جیسا کہ مسیح خاتم الخلفاء کو بھی آثار قیامت سے ٹھہرایا گیا اور اس آیت سے پہلے یہ آیت ہے فَإِذَا بَرقَ الْبَصَرُ سے یعنی جس وقت پتھرا جائیں گی آنکھیں ۔ یعنی وہ ایسے دن ہوں گے جو دنیا پر ہولناک عذاب نازل ہوں گے۔ ایک عذاب ختم نہیں ہوگا جو دوسرا موجود ہو جائے گا۔ پھر بعد کی آیت میں فرما یا يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ " یعنی اس دن انسان کہے گا کہ اب ہم ان متواتر عذابوں سے کہاں بھاگ جائیں اور بھا گنا غیر ممکن ہو گا یعنی وہ دن انسان کے لئے بڑی مصیبت کے دن ہوں گے اور ان کا ہولناک نظارہ بے حواس کر دے گا۔ منہ التكوير: ۵ القيمة : ١٠ القيمة : ٨ القيمة : ١٢،١١