چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 318

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱۸ چشمه معرفت کے بعد ایک میعادی مکتی ہوگی اور انہیں کو ملے گی جو وید کی تعلیم کے موافق عمل کرتے ہیں ۔ یہ اخبار غیبیہ نہیں کہلا سکتے بلکہ ہر ایک مفتری ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔ اس لئے خدا کے سچے رسول مبدء و معاد کے اخبار کے ساتھ دنیا کے متعلق بہت سے اخبار غیبیہ بتلاتے ہیں تا اُن کی نبوت کے ذریعہ مبدء و معاد کی خبریں بھی ثابت ہوں۔ یہ کس قدر قریب ہے کہ صرف مبدء و معاد کی خبر دیں اور دنیا کے متعلق کوئی خبر غیب ظاہر نہ کریں اسی بنا پر وید پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر وہ اخبار غیبیہ کے بیان کرنے پر قادر تھا تو اپنی اس قدرت کا یہ نمونہ اس نے دنیا کے اخبار کے متعلق کیوں نہ دکھلایا اگر وہ خدا کا کلام تھا تو چاہئے تھا کہ دنیا کے متعلق بھی اخبار غیب بتلاتا تا اس کا صدق آزمایا جاتا صرف مبدء اور معاد کی نسبت غیب کی خبر دینا تو ایسا ہے جیسا کہ کوئی سمندر کے عمیق اور گرداب کی جگہ کی طرف اشارہ کر کے کہے کہ میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ اس کے نیچے ایک خزانہ ہے تم اپنی کوشش سے نکال لو ! سو یہ پیشگوئی تو ایک تمسخر ہے اور سچائی کا اس میں نشان نہیں ۔ قرآن شریف صرف مبدء اور معاد کی نسبت خبریں نہیں دیتا بلکہ وہ غیب کی خبریں بھی اس میں ہیں جو ہر ایک زمانہ کے لوگ اُن کی سچائی کے گواہ ہیں۔ ہر ایک انسان سمجھ سکتا ہے کہ کتاب اللہ کے لئے مبدء اور معاد کی خبریں دینا اس لئے ضروری ہیں کہ تا انسان معلوم کرے کہ پہلے خدا کے فضل نے کیونکر اُس کو خلعت وجود بخشا اور پھر بعد تکمیل نفس اس پر کیا کیا فضل ہوگا اور کتاب اللہ کے لئے دنیا کے ۳۰۴ امور غیبیہ سے اطلاع دینا اس لئے ضروری ہے کہ تا جو مبدء اور معاد کی نسبت خبریں دی گئی ہیں اُن پر یقین آجائے اس لئے ہر ایک سچا رسول دنیا کے امور غیبیہ کی نسبت بھی خبریں دیتا آیا ہے مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ آنجناب کی اخبار غیبیہ صرف اُسی زمانہ تک ختم نہیں ہوئیں بلکہ ہمارے زمانہ تک بھی اُن کا سلسلہ جاری ہے۔ انسان کی طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ بغیر تجربہ کے کسی امر کا قائل نہیں ہوسکتا اور نہ قائل ہونا چاہیئے تاکسی جھوٹے کی پیروی کر کے ہلاک ہونا نہ پڑے۔ پس اسی وجہ سے عادت اللہ قدیم سے اس طرح