چشمہٴ معرفت — Page 12
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲ چشمه معرفت کاموں کے محتاج ہیں۔ انسانی وعظ و نصیحت ہرگز اُن کو کچھ کارگر نہ ہوگی ۔ اُن کو سوچنا چاہیے کہ اگر ہم بھی اپنے مضمون میں وہی طریق گالیوں کا اختیار کرتے اور اُن کے وید کے رشیوں کی نسبت وہی گندے اور نا پاک لفظ اس مجمع میں استعمال میں لاتے تو کیا وہ خوش ہوتے ۔اور میں خیال نہیں کر سکتا کہ وہ لوگ ایسے احمق اور نادان ہیں کہ اس بات کو محسوس نہیں کر سکتے کہ وہ الفاظ جو استعمال کئے گئے نہایت درجہ رنج وہ اور جوش پیدا کرنے والے اور خطر ناک تھے نہیں نہیں بلکہ وہ ضرور محسوس کرتے ہیں مگر عمد ا چاہتے ہیں کہ دکھ دیں اور فساد پیدا کریں عجیب تر یہ کہ اُن کے جلسہ کے پُر رونق ہونے کے لئے ہماری جماعت ہی کے بڑے بڑے معزز آدمی باعث ہوئے تھے اور وہ ان کی لاف و گزاف پر بھروسہ کر کے دور دور سے ریل اور یوں کے ہزار ہا روپیہ کے اخراجات اٹھا کر اور اپنے کاموں کا حرج کر کے ان کے جلسہ میں شریک ہوئے تھے اور ہر ایک نے چار چار آنہ چندہ بھی ادا کیا تھا اور چونکہ وہ چار نو کے قریب آدمی تھے اس لئے اس جماعت کے چندوں سے بھی آریوں کو ایک سور و پیہ نقد وصول ہو گیا تھا۔ یہ تمام خرچ اور حرج ہماری جماعت نے محض اس لئے کیا تھا کہ آریوں نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے جو ہندوستان ٹیم پریس لاہور میں چھاپا گیا تھا تمام فرقوں کو اپنے جلسہ میں بلایا تھا اور تسلی دی تھی کہ اس جلسہ میں کوئی مضمون خلاف تہذیب نہ پڑھا جائے گا۔ اور میری جماعت کے حاضر ہونے کے لئے خاص کر میری طرف چھ سات خط لکھے تھے جن میں محض منافقانہ طور پر بہت انکسار ظاہر کیا گیا تھا مگر جب مہمانوں کے طور پر ہماری جماعت اُن کے جلسہ میں حاضر ہوئی تو آریوں کی طرف سے یہ مہمان نوازی کی گئی کہ ان کے پیارے اور بزرگ نبی علیہ السلام کی نسبت گندی گالیاں سنائی گئیں اور وہ لوگ آریوں کی بدزبانی سے نہایت دردمند اور زخمی دلوں کے ساتھ اپنے وطنوں کی طرف روانہ ہوئے۔ کیا یہی لوگ ہیں جو آئے دن صلح صلح کرتے ہیں۔ ہر ایک شخص جو اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے اور اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ غیرت رکھتا ہے اس کو خوب یادر ہے کہ یہ