چشمہٴ معرفت — Page 314
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۱۴ چشمه معرفت چھری سے دہریت کے بھوت کو ذبح کرتا ہے اور ناستک مت کی ہیکل کو توڑتا ہے۔ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا مگر میں اپنے ابتدائی زمانہ سے ہی اس بات کا گواہ ہوں کہ وہ خدا جو ہمیشہ پوشیدہ چلا آیا ہے وہ اسلام کی پیروی سے اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے اگر کوئی قرآن شریف کی کچی پیروی کرے اور کتاب اللہ کے منشاء کے موافق اپنی اصلاح کی طرف مشغول ہو اور اپنی زندگی نہ دنیا داروں کے رنگ میں بلکہ خادم دین کے طور پر بناوے اور اپنے تئیں خدا کی راہ میں وقف کر دے اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھے اور اپنی خود نمائی اور تکبر اور معجب سے پاک ہو اور خدا کے جلال اور عظمت کا ظہور چاہے نہ یہ کہ اپنا ظہور چاہے اور اس راہ میں خاک میں مل جائے تو آخری نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ مکالمات الہی عر بی بی بلیغ میں اس سے شروع ہو جاتے ہیں اور وہ کلام لذیذ اور با شوکت ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے حدیث النفس نہیں ہوتا۔ حدیث النفس کا کلام آہستہ ہوتا ہے جیسا کہ ایک مخنث یا بیمار بولتا ہے مگر خدا کا کلام پر شوکت ہوتا ہے اور اکثر عربی زبان میں ہوتا ہے بلکہ اکثر آیات قرآنی میں ہوتا ہے اور جو کچھ ہمارے تجربہ میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ اوّل دل پر اس کی سخت ضرب محسوس ہوتی حملہ اس راہ میں یعنی الہام کے بارے میں ہمارا تجربہ ہے کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر اور بعض اوقات بغیر غنودگی کے خدا کا کلام لکڑ ٹکڑو ہو کر زبان پر جاری ہوتا ہے جب ایک ٹکڑہ ختم ہو چکتا ہے تو حالت غنودگی جاتی رہتی ہے پھر ملہم کے کسی سوال سے یا خود بخود خدا تعالیٰ کی طرف سے دوسرا لکڑہ الہام ہوتا ہے اور وہ بھی اسی طرح کہ تھوڑی غنودگی وارد ہو کر زبان پر جاری ہو جاتا ہے اسی طرح بسا اوقات ایک ہی وقت میں تسبیح کے دانوں کی طرح نہایت بلغ فصیح لذیذ فقرے غنودگی کی حالت میں زبان پر جاری ہوتے جاتے ہیں اور ہر ایک فقرہ کے بعد غنودگی دور ہو جاتی ہے اور وہ فقرے یا تو قرآن شریف کی بعض آیات ہوتی ہیں یا اُس کے مشابہ ہوتے ہیں ۔ اور اکثر علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اور ان میں ایک شوکت ہوتی ہے اور دل پر اثر کرتے ہیں اور ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت دل نور میں غرق ہوتا ہے۔ گویا خدا اُس میں نازل ہے اور دراصل اس کو الہام نہیں کہنا چاہیے بلکہ یہ خدا کا کلام ہے۔ منہ ۳۰۰