چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 313

روحانی خزائن جلد ۲۳ ٣١٣ چشمه معرفت نہیں ہوئی بلکہ قدم بقدم اسلام کے ساتھ چلی آتی ہے ۔ ہم ایسی تازہ بتازہ برکتیں اُس نبی کے دائمی فیض سے پاتے ہیں کہ گویا اس زمانہ میں بھی وہ نبی ہم میں موجود ہے اور اس وقت بھی اُس کے فیوض ہماری ایسی ہی رہنمائی کرتے ہیں کہ جیسا اس پہلے زمانہ میں کر تے تھے ۔ اُس کے ذریعہ سے ہمیں وہ پانی ملا ہے جس کی ضرورت ہر ایک پاک فطرت محسوس کر رہی ہے وہ پانی بڑی سرعت سے ہمارے ایمانی درخت کو نشو و نما دے رہا ہے اور ان مشکلات سے ہم نے رہائی پالی ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں اور اگر کسی کو ہم میں سے ابتدائی مرحلہ میں مشکلات معلوم بھی ہوں مگر وہ ایسی نہیں ہیں جو آگے قدم بڑھانے سے مغلوب اور رفع نہ ہوسکیں۔ اسلام میں آگے قدم بڑھانے کا وسیع میدان ہے نہ یہ کہ آریوں کی طرح تمام دین اس پر ختم ہے کہ ایک بدی کا ارتکاب کر کے پھر اسی زندگی میں اس بدی کے تدارک کا راہ مسدود ہے جب تک کہ بے شمار جو نہیں نہ بھگتی جائیں اور نہ عیسائیوں کی طرح آخری دوڑ صرف مسیح کے کفارہ تک ہے ویس ۔ ایسے تنگ خیالات ہرگز عزت اور قدر کے لائق نہیں کہ انسانی قومی کو یا تو سراسر برکا رٹھہراتے ہیں اور یا اُن کو معطل رہنے کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر نتیجہ کچھ نہیں۔ میں نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں بہت سے ایسے نشان لکھے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خدا جس کی شناخت اور محبت ہماری عین نجات ہے وہ اسلام کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے اور اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے زندہ نشانوں کی جب کہ آریوں کے نزدیک دنیا سزا کا گھر ہے اور کسی قدر جزا کا بھی یعنی نیکی کے بدلہ کا گھر ۔ تو ایک آریہ مثلاً جو اپنے گناہ کی شامت سے کتا بنایا گیا ہے چاہیے تھا کہ وہ سزا بھگت کر فی الفور اسی دنیا میں بجائے کتے کے آدمی بنایا جاتا تا جونوں کا تماشا لوگ بچشم خود دیکھ لیتے اور تناسخ کا قطعی ثبوت مل جاتا۔ کس قدر یہ فضول بات ہے کہ سزا تو اسی دنیا میں دی گئی تھی اور نیز ایک جون کے عوض دوسری جون بھی اسی دنیا میں ملتی تھی ۔ پھر نا حق روح کو نکال کر کہیں کا کہیں لے گئے اس بے جا کا رروائی سے فائدہ کیا ہوا۔ آخر سزا کے لئے روح کو پھر دنیا میں واپس آنا پڑا کیا یہی وید وڈیا ہے؟ منه