چشمہٴ معرفت — Page 306
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۰۶ چشمه معرفت اپنے اس فرض کو ادا نہ کرے جو اس کا اصلی فرض ہے اور دوسرے بیہودہ دعووں سے اپنی خوبی ثابت کرنی چاہے تو اس کی یہی مثال ہے کہ ایک شخص مثلاً طبیب حاذق ہونے کا دعویٰ کرے اور جب کوئی بیمار اس کے سامنے پیش کیا جائے کہ اس کو اچھا کر کے دکھلاؤ تو وہ یہ جواب دے کہ میں اس کو اچھا تو نہیں کر سکتا لیکن میں کشتی کرنا خوب جانتا ہوں یا یہ کہے کہ علم ہیئت اور فلسفہ میں مجھے بہت دخل ہے ظاہر ہے کہ ایسا آدمی مسخرہ کہلائے گا اور عقلمندوں کے نزدیک قابل سرزنش ہوگا ۔ خدا کی کتاب اور خدا کے رسول جو دنیا میں آتے ہیں بڑی غرض اُن کی یہی ہوتی ہے جو دنیا کو پاپ اور گناہ کی زندگی سے چھڑا دیں اور خدا سے پاک تعلقات قائم کریں اُن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ دنیا کے علوم اُن کو سکھا دیں اور دنیا کی ایجا دوں سے اُن کو آگاہ کریں ۔ غرض ایک عقلمند اور منصف مزاج آدمی کے نزدیک اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ خدا کی کتاب کا فرض یہی ہے کہ وہ خدا کو ملاوے اور خدا کی ہستی کے بارہ میں یقین کے درجہ تک پہنچا دے اور خدا کی عظمت اور ہیبت دل میں بٹھا کر گناہ کے ارتکاب سے روک دے ورنہ ہم ایسی کتاب کو کیا کریں جو نہ دل کا گند دور کر سکتی ہے اور نہ ایسی پاک اور کامل معرفت بخش سکتی ہے جو گناہ سے نفرت کرنے کا موجب ہو سکے ۔ یادر ہے کہ گناہ کی رغبت کا جذام نہایت خطرناک جذام ہے اور یہ جذام کسی طرح دور ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا کی زندہ معرفت کی تجلیات اور اُس کی ہیبت اور عظمت اور قدرت کے نشان بارش کی طرح وارد نہ ہوں اور جب تک کہ انسان خدا کو اُس کی مہیب طاقتوں کے ساتھ ایسا نزدیک نہ دیکھے جیسے وہ بکری کہ جب شیر کو دیکھتی ہے کہ صرف وہ اُس سے دو قدم کے فاصلہ پر ہے (۲۹۳) انسان کو یہ ضرورت ہے کہ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اس قد ر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اس پر گرتی اور اس کے تقویٰ کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے وہ دور ہو جاوے مگر کیا