چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 298

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۸ چشمه معرفت اگر کہو کہ یہ اعتدال کے برخلاف ہے تو یہ خیال باطل ہے کیونکہ جب کہ خدا نے ایک کو مرد بنایا اور زیادہ بچہ پیدا کرانے کا اُس میں مادہ رکھا اور عورت کی نسبت اس کو بہت زبر دست قو تیں دیں تو اس صورت میں اعتدال کو تو خدا نے اپنے ہاتھ سے توڑ دیا۔ جن کو خدا نے برابر نہیں کیا وہ کیونکر برابر ہو جائیں اُن کو برابر سمجھنا صریح حماقت ہے ۔ ماسوا اس کے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ تعدد ازدواج میں کسی عورت پر ظلم نہیں ۔ مثلاً اگر کسی شخص کی پہلی بیوی موجود ہے تو اب دوسری عورت جو اُس سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ کیوں ایسے شخص سے شادی کرتی ہے جو پہلے بھی ایک بیوی رکھتا ہے ظاہر ہے کہ وہ تو سبھی شادی کرے گی کہ جب تعدد ازدواج پر راضی ہو جائے گی ۔ پھر جب میاں بیوی راضی ہو گئے تو پھر دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں پہنچتا جب حق دار نے اپنا حق چھوڑ دیا تو پھر دوسرے کا اعتراض محض جھک مارنا ہے اور اگر پہلی ۲۸۵ بیوی ہے تو وہ خوب جانتی ہے کہ اسلام میں دوسری بیوی کر سکتے ہیں تو وہ کیوں نکاح کے وقت میں یہ شرط نہیں کرا لیتی کہ اُس کا خاوند دوسری بیوی نہ کرے اس صورت میں وہ بھی اپنی خاموشی سے اپنا حق چھوڑتی ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ کثرت ازواج خدا کے تعلق کی کچھ حارج نہیں اگر کسی کی دس ہزار بیوی بھی ہو تو اگر اُس کا خدا سے پاک اور مستحکم تعلق ہے تو دس ہزار بیوی سے اُس کا کچھ بھی حرج نہیں بلکہ اس سے اُس کا کمال ثابت ہوتا ہے کہ ان تمام تعلقات کے ساتھ وہ ایسا ہے کہ گویا اُس کو کسی کے ساتھ بھی تعلق نہیں ۔ اگر ایک گھوڑا بوجھ کی حالت میں کچھ چل نہیں سکتا مگر بغیر سواری اور بوجھ خوب چال نکالتا ہے تو وہ گھوڑا کس کام کا ہے؟ اسی طرح بہادر وہی لوگ ہیں جو تعلقات کے ساتھ ایسے ہیں کہ گویا بے تعلق ہیں۔ پاک آدمیوں کی شہوات کو ناپاکوں کی شہوات پر قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ نا پاک لوگ شہوات کے اسیر ہوتے ہیں مگر پاکوں میں خدا اپنی حکمت اور مصلحت سے آپ شہوات پیدا کر دیتا ہے اور صرف صورت کا اشتراک ہے جیسا کہ مثلاً قیدی بھی جیل خانہ میں رہتے ہیں اور داروغہ جیل بھی مگر دونوں کی حالت میں فرق ہے۔ دراصل ایک انسان کا خدا سے