چشمہٴ معرفت — Page 297
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۷ چشمه معرفت سکتا تو اسی طرح اُن پر بھی کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ غرض خدا کے نبیوں اور رسولوں کی نسبت کسی کو جائز نہیں اور نہ کسی کا حق ہے کہ وہ محض اپنی محدود عقل کی رو سے فیصلہ کرے کہ وہ پاک ہیں یا پلید ہیں بلکہ جس کے قرب اور تعلق کے وہ مدعی ہیں اور جس کے فرستادہ وہ اپنے تئیں خیال کرتے ہیں اُسی کا یہ حق ہے کہ اگر وہ در حقیقت اُسی کی طرف سے ہیں تو اپنی خاص تائیدوں اور خاص فضلوں اور خاص نصرتوں سے دنیا پر یہ ظاہر کر دے کہ وہ اُس کے برگزیدہ بندے ہیں اور جب خدا کی زبر دست نصرتوں اور فوق العادت نشانوں سے اُن کا برگزیدہ ہونا ثابت ہو جائے تو پھر سراسر خباثت اور بے ایمانی اور کمینگی ہوگی کہ ادنی ادنی نکتہ چینیوں سے اُن کی عزت اور مرتبہ پر حملہ کیا جائے کمبینہ آدمی جیسا کہ اپنے اندر کمینگی رکھتا ہے ایسا ہی اس کے اعتراض بھی کمینگی پر (۲۸۴ مبنی ہوتے ہیں اس کو خبر نہیں ہوتی کہ کس حالت اور کن تعلقات کے ساتھ کوئی شخص خدا کا برگزیدہ بن جاتا ہے کمینہ طبع آدمی کے ہاتھ میں صرف بدظنی کے طور پر چند اعتراض ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ فلاں شخص کیونکر خدا کا نبی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتا ہے مگر وہ نادان نہیں جانتا کہ اس میں کیا حرج ہے بلکہ کثرت ازدواج کثرت اولاد کا موجب ہے جو ایک برکت ہے۔ اگر ایک عورت کا سو خاوند ہو تو اُس کا سولڑ کا پیدا نہیں ہو سکتا لیکن اگر شنوا عورت کا ایک خاوند ہو تو سولڑ کا پیدا ہونا کچھ بعید نہیں ہے پس جس طریق سے انسان کی نسل پھیلتی ہے اور خدا کے بندوں کی تعداد بڑھتی ہے اس طریق کو کیوں بُرا کہا جاوے؟ جید حاشیہ خدا تعالیٰ اپنے خاص اور پیارے لوگوں کو اجنبی لوگوں کی آنکھ سے پوشیدہ رکھنے کے لئے بعض حالات اُن کے اس طور سے ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک متعصب نادان کی نظر میں قابل اعتراض ہوتے ہیں تا غیر اُن سے دور رہے۔ منہ حاشیہ: جیسا کہ عرب کے کفار کا ایک یہ اعتراض خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا ہے کہ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ے یعنی یہ تو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں پھرتا ہے ۔ان کے نزدیک روٹی کھانا یا عمدہ کھانا استعمال کرنا شان نبوت کے بر خلاف تھا اور نیز یہ اعتراض تھا کہ نبی گوشہ گزین ہونا چاہیے نہ یہ کہ بازاروں میں بھی پھرے۔ منہ الفرقان: ۸