چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 296

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۶ چشمه معرفت بزرگ سمجھا جائے ۔ وہ خاص طور پر کوئی رنگ دار کپڑ نہیں پہنتے کوئی مالا اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے اور کوئی ایسی خاص وضع نہیں بناتے جس سے یہ مقصود ہو کہ لوگ اُن کو بزرگ سمجھیں اور نہ اُن کو اس بات کی کچھ پروا ہوتی ہے کہ لوگ اُن کو خدا رسیدہ خیال کریں بلکہ وہ دنیا کے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کپڑے کی طرح بھی تصور نہیں کرتے ۔ خدا کی محبت اُن کے دلوں پر ایسا کام کرتی ہے کہ اُن کے دل خدا کی عظمت قبول کرنے کے بعد کسی کی پروا نہیں رکھتے ۔ سب پر رحم کرتے ہیں مگر اس طور پر کسی کی عظمت نہیں مانتے کہ بعد خدا کے وہ بھی کچھ چیز ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اپنے تئیں لوگوں پر ظاہر کریں اور اپنی اندرونی پاکیزگی لوگوں کو دکھا دیں بلکہ وہ انگشت نما ہونے سے کراہت کرتے ہیں ان کی فطرت ہی ایسی واقع ہوتی ہے ۲۸۳ کہ وہ شہرت سے ہزار کوس دور بھاگتے ہیں اور گمنام رہنا چاہتے ہیں مگر وہ خدا جو اُن کے دلوں کو دیکھتا ہے اور اُن کو اس کام کے لئے لائق سمجھتا ہے کہ وہ اپنے گوشوں اور حجروں سے باہر نکلیں اور خدا کے بندوں کو سیدھی راہ کی دعوت کریں وہ جبراً اُن کو خلوت سے جلوت کی طرف لے آتا ہے اور زمین پر اپنے قائم مقام بنا کر اُن کے ذریعہ سے دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتا ہے اور اُن کے لئے بڑے بڑے نشان دکھاتا ہے اور دُنیا پر اُن کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اُن کی تائید میں وہ قدرت کے نمونے ظاہر کرتا ہے کہ آخر ہر ایک عقلمند کو مانا پڑتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں اور چونکہ وہ زمین پر خدا کے قائم مقام ہوتے ہیں اس لئے ہر ایک مناسب وقت پر خدا کی صفات اُن سے ظاہر ہوتی ہیں اور کوئی امر اُن سے ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ خدا کی صفات کے برخلاف ہو بیشک یہ سچ بات ہے کہ جیسا کہ خدا حلیم و کریم ہے ایسا ہی حلم و کرم اُن سے بھی ظاہر ہوتا ہے اور جیسا کہ خدا قهار اور ختم ہے ایسا ہی جس وقت زمین پاپ اور گنہ سے بھر جاتی ہے تو خدا اُن کے ذریعہ سے بھی زمین والوں کو سزا دیتا ہے اور ہر ایک نرمی اور سختی جو خدا خود بخود کرتا رہتا ہے اُن کے ذریعہ سے بھی کرتا ہے کیونکہ وہ زمین پر خدا کے جانشین کی طرح ہوتے ہیں پس اگر ایسے کاموں سے خدا پر اعتراض نہیں ہو