چشمہٴ معرفت — Page 295
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۹۵ چشمه معرفت پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پوتر نہیں تھی یعنی پاک نہیں تھی اور حیلہ اور مکر اور فریب سے عار نہ تھی ۔ اور حیوانی خواہشات کی طرف بہت مائل تھے ۔ ہم قبل اس کے جو اس بہتان کا جواب دیں اس قدر کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین۔ یہ شخص بد زبانی میں لیکھر ام سے بھی کچھ بڑھا ہوا معلوم ہوتا ہے جس نے ہماری جماعت کے معزز آدمیوں کو جو چار سو کے قریب تھے اپنی بد زبانی سے دکھ دیا۔ یہ دراصل تمام آریوں کی شرارت ہے جنہوں نے مکر اور فریب کی راہ سے یہ دعوی کر کے کہ تہذیب سے مضمون سنائے جائیں گے پھر اپنے اقرار کے مخالف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس شخص کے منہ سے وہ گالیاں دلوائیں جن کے تصور سے بدن کانپتا ہے ۔ سادہ طبع مسلمان ان منافق آریوں کے دھو کہ میں آکر اس جلسہ میں حاضر (۲۸۳) ہوئے اور اس سفر میں ہزار ہا روپیہ کا خرچ اُٹھایا اور پھر ہر ایک نے فی کس چار آنہ کے حساب سے جلسہ میں داخل ہونے کے لئے آریوں کو فیس دی آخر کا رایسی سخت گالیاں سن کر آئے کہ اگر کوئی وحشی قوم ہوتی تو اس جگہ خون کی ندیاں بہ جاتیں ۔ اس سے بڑھ کر اور کون سی گالی ہو گی؟ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نا پاک زندگی قرار دیا اور نعوذ باللہ آپ کو مکار اور فریبی اور نفسانی شہوات کی طرف مائل ٹھیرایا۔ اب مذکورہ بالا اعتراض کا جواب یہ ہے کہ پوتر یعنی پاک ہونا یا نا پاک ہونا یہ ایک پوشیدہ امر ہے اور بجز خدا کی گواہی کے کسی کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ پاک ہے کیونکہ کسی انسان کے اندرونی حالات کا بجز خدا کے کسی شخص کو علم نہیں ۔ وہ خدا کا ہی علم ہے جو پاک اور پلید میں فرق کر کے دکھلاتا ہے۔ بہت لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں کہ بڑی بڑی لمبی مالا اُن کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور سر سے پاؤں تک بھگوے کپڑے ہوتے ہیں اور کسی تالاب پر آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہتے ہیں مگر اول درجہ کے بدمعاش اور خبیث اور چنڈال ہوتے ہیں لیکن خدا کے نبیوں کی زندگی سادہ ہوتی ہے وہ اس نیت سے کوئی کام نہیں کرتے کہ ان کو