چشمہٴ معرفت — Page 286
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۶ چشمه معرفت تو اس کے اثر سے اس چیز میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اگر محض یہی بات ہوتی کہ اُس ہوا کے کیڑے اس کھانے کے اندر داخل ہو جاتے ہیں تو کوئی کھانا کیٹروں سے بچ نہ سکتا۔ ایک طرف ہم ایک کھانا تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے اور ایک طرف فی الفور ہزار ہا کیڑے بلا توقف اُس میں پڑ جاتے کیونکہ جب کیڑے پہلے سے ہوا میں موجود ہیں اور کھانا بھی کھلا پڑا ہے تو پھر تو قف کی کوئی وجہ نہیں اور اگر کہو کہ اول حالت میں باریک ہوتے ہیں تو پھر تم خورد بین کے ذریعہ سے ہمیں دکھلاؤ کہ اس تازہ کھانے میں کہاں کیڑے ہیں۔ غرض یہ بھی سائنس والوں کی ایک موٹی غلطی ہے وہ لوگ خدا کے اسرار کا معما کھولنا چاہتے ہیں آخر منہ کے بل گرتے ہیں ہیں۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض قرآن شریف پر پیش کیا کہ خاوند کی مرضی پر طلاق رکھی ہے اس سے شاید اس کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ عقل کی رو سے مرد اور عورت درجہ میں برابر ہیں تو پھر اس صورت میں طلاق کا اختیار محض مرد کے ہاتھ میں رکھنا بلا شبه قابل اعتراض ہو گا۔ پس اس اعتراض کا یہی جواب ہے کہ مرد اور عورت درجہ میں ہرگز برابر نہیں ۔ دنیا کے قدیم تجربہ نے یہی ثابت کیا ہے کہ مرد اپنی جسمانی اور علمی طاقتوں میں ا حاشیہ: یادر ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید نے ہر ایک جانور کو خواہ وہ کیڑا ہے یا اور جاندار انسان قرار دیا ہے یعنی یہ تعلیم دی ہے کہ وہ در اصل انسانی روح ہے جو کسی اور جون میں واپس آئی ہے مگروید نے جو واپس آنے کا طریق بیان کیا ہے وہ ایسا بیہودہ اور خلاف عقل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وید کے بنانے والے علم اور عقل سے محض بے نصیب تھے اس بات کا بار ثبوت وید کے ذمہ تھا کہ وہ روح جو بدن سے نکل گئی تھی وہ کیوں کر اور کس طریق سے واپس آتی ہے اور کیوں کر انسانی نطفہ سے اس کا پیوند ہو جاتا ہے اور یہ خیال کہ وہ روح شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر گرتی ہے اس سے زیادہ اور کوئی خیال بیوقوفی کا نہیں ہوگا کیونکہ نطفہ صرف گھاس پات سے نہیں بلکہ صد ہا مختلف طریقوں سے طیار ہوتا ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔ ایک وال کی طرف دیکھو جو اکثر آریوں کی غذا ہے اول وہ آگ پر گداز کی جاتی ہے اور کیڑے مرجاتے ہیں اور اگر باسی ہو جائے تو ہزار ہا کیٹرے اس میں پڑ جاتے ہیں ۔ تو کیا یہ خیال ہوسکتا ہے کہ وہ کیڑے بھی شبنم سے ہی غذا میں داخل ہوتے ہیں اور وہ سب انسان ہیں ۔ منہ