چشمہٴ معرفت — Page 287
۲۸۷ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ عورتوں سے بڑھ کر ہیں اور شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے پس جب مرد کا درجہ باعتبار اپنے ظاہری اور باطنی قوتوں کے عورت سے بڑھ کر ہے تو پھر یہی قرین انصاف ہے کہ مرد اور عورت کے علیحدہ (۲۷۴ ہونے کی حالت میں عنان اختیار مرد کے ہاتھ میں ہی رکھی جائے مگر تعجب ہے کہ یہ اعتراض ایک آریہ نے کیوں پیش کیا ؟ کیونکہ آریوں کے اصول کی رو سے تو مرد کا درجہ عورت سے اس قدر بڑھ کر ہے کہ بغیر لڑکا پیدا ہونے کے نجات ہی نہیں ہوسکتی۔ اسی بنا پر ایک آریہ کی عورت با وجود موجود ہونے خاوند کے دوسرے مرد سے منہ کالا کراتی ہے تا کسی طرح لڑکا پیدا ہو جائے ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر اُن کے نزدیک مرد اور عورت کا درجہ برابر ہوتا تو اس رسوائی اور فضیحت کی ضرورت ہی کیا تھی؟ لیکن یہ بات ہر ایک کو معلوم ہے کہ اگر ایک آریہ کی چالیس لڑکیاں بھی ہوں یا فرض کرو کہ سو لڑکی ہو تب بھی وہ اپنی نجات کے لئے فرزند نرینہ کا خواہشمند ہوتا ہے اور اُس کے مذہب کی رُو سے سنو لڑکیاں بھی ایک لڑکے کے برابر نہیں ہوسکتیں۔ پس اس سے ثابت ہے کہ آریہ مذہب کی رو سے جس قدرلڑ کے کو یعنی فرزند نرینہ کو دختر پر ترجیح دی گئی ہے وہ اس قدر ترجیح ہے که دختر کو اپنی قدر و منزلت میں فرزند نرینہ کا سواں حصہ بھی قرار نہیں دیا گیا ورنہ یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر مذہب کی رو سے لڑکی اور لڑکا ایک درجہ پر سمجھے جاتے تو پھر لڑ کا ہونے کے لئے یہ بے غیرتی کیوں روا رکھی جاتی کہ اپنی منکوحہ عورت جس کے لئے غیرت مند لوگ مرنے مارنے پر طیار ہو جاتے ہیں وہ دوسروں سے ہم بستر کرائی جاتی ؟ اور کیوں اس قدرلڑ کا پیدا ہونے کے لئے حرص بڑھائی جاتی کہ یہ روا رکھا جاتا کہ گو اس بد قسمت عورت کو تمام دنیا کے مردوں سے ہم بستر کرایا جائے مگر لڑ کا ضرور پیدا ہونا چاہیے۔ ماسوا اس کے منوشا ستر کو پڑھ کر دیکھ لو کہ اس میں بھی صاف لکھا ہے کہ اگر عورت مرد کی دشمن ہو جائے یاز ہر دینا چاہے یا اور کوئی ایسا سبب ہو تو مرد کو طلاق دینے کا اختیار ہے اور عملی طور پر تمام شریف ہندوؤں کا یہی طریق ہے کہ اگر عورت کو بدکار اور بدچلن پاویں