چشمہٴ معرفت — Page 285
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۵ چشمه معرفت اس میں کیڑے ہوتے ہیں اسی وجہ سے ایسے پہاڑوں پرسل کی بیماری والوں کو فائدہ ہوتا ہے اور اس سے اُوپر کے طبقہ کی ہوا ایسی ہوتی ہے جو بالکل کیڑوں سے خالی ہوتی ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ جو ہو ا سطح زمین کے نزدیک ہے خاص کر جب وہ آفتاب کی حرارت سے پورا حصہ نہیں لیتی یا برف کی شدید سردی سے متاثر نہیں ہوتی وہی ہوا کیٹروں سے پر ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی بساطت پر باقی نہیں رہتی ۔ پس اس سے ثابت ہے کہ دراصل ہوا میں کوئی کیٹر انہیں ہے بلکہ جب ایک عارضی غلاظت اور رطوبت اُس سے مل جاتی ہے تو اس سے وہ کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں اور چونکہ یہ ہوا تمام چیزوں پر محیط ہے اس لئے یہ گندی ہوا جب دوسری چیزوں پر اثر کرے گی تو اُن میں بھی کیڑے پیدا ہو جائیں گے اور عجیب تر یہ ہے کہ اگر مثلاً ایک جگہ پچاس سنگترہ یا اور قسم کے میوے دیر تک رکھے رہیں تو بعض پھل تو بگڑ جاتے ہیں اور بعض مدت تک نہیں بگڑتے حالانکہ وہ ایک ہی ہوا کے اثر کے ماتحت ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ جس قدر ہوا لطیف ہوگی اُسی قدر کیڑے کم پیدا ہوں گے۔ اس سے ثابت ہے کہ کیڑے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو گندی ہوا کی تاثیر سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور حکمت سے محض کسی سرسبز پتے یا سرسبز پھل سے پیدا ہوتے ہیں جیسے گولر کا پر دار کیڑایا آک کا جانور جو ملخ کے برابر ہوتا ہے اور جیسے نطفہ کا کیڑا اور جیسے وہ کیڑے جو زمین کے نہایت ہی عمیق طبقوں میں پائے (۲۷۳ جاتے ہیں اور دوسرے وہ کیڑے ہیں جو گندی ہوا سے پیدا ہوتے ہیں اور ایسی ہوا جب کسی ایسی غذا پر اپنا اثر کرتی ہے جس میں کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں تو اس ہوا کے اثر سے ہزار ہا کیڑے اس غذا میں پیدا ہو جاتے ہیں پس یہ سائینس والوں کی غلطی ہے کہ وہ ہر ایک پیدا ہونے والے کیڑے کو گندی ہوا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب یہ بات بھی بحث طلب ہے کہ وہ کیڑے جو دال وغیرہ چیزوں میں پیدا ہوتے ہیں وہ کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟ پس اصل بات تو یہ ہے کہ جب وہ گندی ہوا جس میں کیڑے پیدا ہو چکے ہیں کسی کھانے والی یا کسی دوسری چیز پر اثر کرتی ہے