چشمہٴ معرفت — Page 279
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۷۹ چشمه معرفت کی روحانی اور جسمانی تکمیل کرتا ہے چنانچہ روح اور جسم کا ظہور ربوبیت کے تقاضا سے ہے اور اسی طرح خدا کا کلام نازل ہونا اور اُس کے خارق عادت نشان ظہور میں آنار بوبیت کے تقاضا سے ہے (۲) دوم خدا کی رحمانیت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اس نے بغیر پاداش اعمال بے شمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۳) تیسری خدا کی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اول تو صفت رحمانیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال اُن سے ظہور میں لاتا ہے اور اس طرح پر اُن کو آفات سے بچاتا ہے۔ یہ صفت بھی اُس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے (۴) چوتھی صفت مَالِكِ يَوْمِ الدِّین ہے یہ بھی اُس کے پوشیدہ وجود کوظاہر کرتی ہے کہ وہ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا دیتا ہے۔ یہ چاروں صفتیں ہیں جو اُس کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں یعنی اُس کے پوشیدہ وجود کا ان صفات کے ذریعہ سے اس دنیا میں پتہ لگتا ہے اور یہ معرفت عالم آخرت میں دو چند ہو جائے گی گویا بجائے چار کے آٹھ فرشتے ہو جائیں گے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض پیش کیا کہ دنیا کی پیدائش کا طریقہ قرآن شریف میں غلط بیان کیا گیا ہے۔ اگر اس اعتراض سے معترض کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں یہ لکھا ہے کہ ہر ایک چیز خدا کے حکم سے پیدا ہوئی ہے اور کسی چیز کے وجود کو خدا کے حکم کے ساتھ وابستہ کرنا علم طبعی کے قواعد کے برخلاف ہے تو یہ پورچ اور لغو اعتراض ہے کیونکہ جو شخص حاشیه صفحه ۲۷۸: خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی و ارضی پیدا کر کے پھر اپنے وجود کو وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے اور یہ ایسانہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالی کی چار صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پیوند لگا یعنی ربوبیت - رحمانیت رحیمیت - مالک یوم الجزاء ہونا ۔ سو یہ چاروں صفات استعارہ کے رنگ میں چار فرشتے خدا کی کلام میں قرار دیئے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھا ر ہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلا رہے ہیں ورنہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا۔ منہ