چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 274

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۷۴ چشمه معرفت ہو یا آسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے کون ہے جو بغیر اُس کے حکم کے اُس کے آگے شفاعت کر سکتا ہے وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اُس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے اور کوئی اُس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کرسکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔ اُس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے ۔ وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ نہیں کہ کسی چیز نے اُس کو اُٹھا رکھا ہے اور وہ آسمان و زمین اور اُن کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اُس کی طرف منسوب کی جائے ۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (ترجمہ) تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا یعنی اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کر کے اور تشبیہی صفات کا ظہورفرما کر پھر تنز بھی صفات کے ثابت کرنے کے لئے مقام تنزہ اور تجرد کی طرف رُخ کیا جو وراء الوراء مقام اور مخلوق کے قرب و جوار سے دور تر ہے وہی بلند تر مقام ہے جس کو عرش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے تو تمام مخلوق حيز عدم میں تھی اور خدا تعالی وراء الوراء مقام میں اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا جس کا نام عرش ہے یعنی وہ مقام جو ہر ایک عالم سے بلند تر اور برتر ہے اور اسی کا ظہور اور پر تو تھا اور اُس کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا اور جب مخلوق ظاہر ہوئی تو پھر اُس نے اپنے تئیں مخفی کر لیا اور چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ سے شناخت کیا جائے مگر یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر (۲۲۳) نقطل صفات الہیہ کبھی نہیں ہوتا اور بجز خدا کے کسی چیز کے لئے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لئے تعطل دائمی تو نہیں مگر تعطل میعادی الاعراف: ۵۵