چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 273

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۷۳ چشمه معرفه صفات سے کسی کے دل میں شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ گویا انسان ان صفات میں خدا سے مشابہ ہے اور خدا انسان سے مشابہ ہے اس لئے خدا نے ان صفات کے مقابل پر قرآن شریف میں اپنی تنزیہی صفات کا بھی ذکر کر دیا یعنی ایسی صفات کا ذکر کیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو اپنی ذات اور صفات میں کچھ بھی شراکت انسان کے ساتھ نہیں اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کچھ مشارکت ہے۔ نہ اُس کا خلق یعنی پیدا کرنا انسان کے خلق کی طرح ہے نہ اُس کا رحم انسان کے رحم کی طرح ہے نہ اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے نہ اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے نہ وہ انسان کی طرح کسی مکان کا محتاج ہے۔ اور یہ ذکر یعنی خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے جیسا کہ ایک یہ آیت ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ لے یعنی کوئی چیز اپنی ذات اور صفات میں خدا کی شریک نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اور پھر ایک جگہ فرمایا اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَءٍ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ کے ترجمہ حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لئے ہیں کوئی اُن میں اُس کا شریک نہیں وہی بذاتہ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعہ سے ہیں ۔ اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اُس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اُس پر جائز نہیں ایسا ہی ادنی درجہ کا نعطل حواس بھی جو نیند اور اُونگھ سے ہے وہ بھی اُس پر جائز نہیں مگر دوسروں پر جیسا کہ موت وارد ہوتی ہے نیند اور اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔ جو کچھ تم زمین میں دیکھتے (۲۶۲) الشورى : ۱۲ ٢ البقرة : ۲۵۶