چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 272

چشمه معرفه روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۷۲ قصہ کے طور پر خدا کا نام لیتا ہے مگر قرآن شریف اس محبوب حقیقی کا چہرہ دکھلا دیتا ہے اور ۲۶۰ یقین کا نور انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے اور وہ خدا جو تمام دنیا پر پوشیدہ ہے وہ محض قرآن شریف کے ذریعہ سے دکھائی دیتا ہے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ خدا عرش پر کرسی نشین ہے۔ اس لغو اعتراض کا جواب پہلے ہم مبسوط اور مفصل طور پر لکھ آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عاجز انسانوں کو اپنی کامل معرفت کا علم دینے کے لئے اپنی صفات کو قرآن شریف میں دورنگ پر ظاہر کیا ہے۔ (۱) اول اس طور پر بیان کیا ہے جس سے اُس کی صفات استعارہ کے طریق پر مخلوق کی صفات کی ہم شکل ہیں جیسا کہ وہ کریم رحیم ہے محسن ہے اور وہ غضب بھی رکھتا ہے اور اُس میں محبت بھی ہے اور اُس کے ہاتھ بھی ہیں اور اُس کی آنکھیں بھی ہیں اور اس کی ساقین بھی ہیں اور اُس کے کان بھی ہیں اور نیز یہ کہ قدیم سے سلسلہ مخلوق کا اُس کے ساتھ چلا آیا ہے مگر کسی چیز کو اُس کے مقابل پر قدامت شخصی نہیں ہاں قدامت نوعی ہے ۔ اور وہ بھی خدا کی صفت خلق کے لئے ایک لازمی امر نہیں کیونکہ جیسا کہ خَلَقُ یعنی پیدا کرنا اُس کی صفات میں سے ہے ایسا ہی کبھی اور کسی زمانہ میں تجلی وحدت اور تجر داس کی صفات میں سے ہے اور کسی صفت کے لئے تعطل دائمی جائز نہیں ہاں تعطیل میعادی جائز ہے۔ غرض چونکہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے اپنی اُن تشبیہی صفات کو اس پر ظاہر کیا جن صفات کے ساتھ انسان بظاہر شراکت رکھتا ہے جیسے خالق ہونا کیونکہ انسان بھی اپنی حد تک بعض چیزوں کا خالق یعنی موجد ہے ۔ ایسا ہی انسان کو کریم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک کرم کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور اسی طرح انسان کو رحیم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک قوت رحم بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور قوتِ غضب بھی ۲۶۱) اُس میں ہے اور ایسا ہی آنکھ کان وغیرہ سب انسان میں موجود ہیں ۔ پس ان تشیی