چشمہٴ معرفت — Page 265
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۵ چشمه معرفت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمی تھے اور نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے اور نصاری اور یہود کے علماء سخت دشمن تھے اس صورت میں کیونکر ممکن تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصاری اور یہود کی کتابوں میں سے کچھ نقل کر سکتے تھے چنانچہ اس بارے میں قرآن شریف میں یہ آیات ہیں وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ فَالَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَ مِنْ هَؤُلَاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ - وَمَا يَجْحَدُ بِايَتِنَا إِلَّا الْكَفِرُوْنَ - وَمَا كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتُبِ وَلَا تَخْطُهُ بِيَمِينِكَ إِذَا لَّا رَتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ - بَلْ هُوَ ايْتُ بَيْنَتُ في صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ وَ مَا يَجْحَدُ بِايَتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ الجزء نمبر ٣١ سورۃ العنکبوت ( ترجمہ ) اور اے پیغمبر ! جس طرح اگلے پیغمبروں پر ہم نے کتابیں اتاری (۲۵۴) تھیں اسی طرح تجھ پر یہ کتاب اتاری ہے۔ پس جن کو تجھ سے پہلے ہم نے کتاب دی ہے اُن کے سمجھدار اور سعید لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان مشرکین اہل مکہ سے بھی سوچنے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان دونوں فرقوں میں سے وہ لوگ ایمان نہیں لاتے جنہوں نے دیده و دانستہ کفر کو اپنے لئے اختیار کر لیا ہے۔ اور اے پیغمبر ! قرآن سے پہلے نہ تو تم کوئی کتاب ہی پڑھتے تھے اور نہ تم اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ سکتے تھے اگر ایسا ہوتا تو ان بے دین لوگوں کو شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہوتی مگر اب تو اُن کا شبہ سرا سر ہٹ دھرمی ہے یعنی جبکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محض ناخواندہ اور اُمی تھے اور کوئی نہیں ثابت کر سکا کہ آپ لکھ سکتے یا پڑھ سکتے تھے تو پھر ایسے شبہات ایمانداری کے برخلاف ہیں اور پھر فرمایا کہ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو قرآن شریف کے حقائق اور معارف کا علم دیا گیا ہے اُن کے نزدیک تو قرآن شریف خدا کے کھلے کھلے نشان ہیں یعنی اعتراض وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن شریف میں کچھ تدبر نہیں کرتے اور اس کے معجزانہ مرتبہ سے بے خبر ہیں اور تدبر کرنے والے تو ایک ہی نظر سے شناخت کر جاتے ہیں کہ یہ کلام انسانی طاقتوں سے برتر ہے کیونکہ وہ اعجازی صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔ علاوہ اس کے یہ کہ وہ عین ضرورت کے وقت العنكبوت : ۴۸ تا ۵۰