چشمہٴ معرفت — Page 263
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۳ چشمه معرفت آنے پائے یہ تجویز سب نے پسند کی اور قریش رات ہوتے ہی محمد صاحب کے گھر کے آگے ڈٹ گئے کہ جس وقت وہ دروازہ سے نکلیں یہیں اُن کا ڈھیر کر دیا جائے مگر کسی جاں نثار خادم نے آپ کو وقت پر خبر کر دی آپ پچھلی طرف سے کود کر ابوبکر کے ہاں چلے گئے اور وہاں سے دونوں راتوں رات بھاگ کر ایک غار میں پناہ گزین ہوئے۔ علی الصباح جب قریش نے دیکھا کہ محمد صاحب بھاگ گئے اور وہ اپنے ارادہ میں حمد حاشیہ: یادر ہے کہ پانچ موقعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہایت نازک پیش آئے تھے جن میں جان کا بچنا محالات سے معلوم ہوتا تھا اگر آنجناب در حقیقت خدا کے بچے رسول نہ ہوتے تو ضرور ہلاک کئے جاتے ۔ ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھالی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے (۲) دوسرا وہ موقعہ تھا جبکہ کا فرلوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکر کے چھپے ہوئے تھے (۳) تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جب کہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گر دمحاصرہ کر لیا تھا اور آپ پر بہت سی تلوار میں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی یہ ایک معجزہ تھا۔ (۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جب کہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اس کا دیا گیا تھا (۵) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقعہ تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصمم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے ۔ پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پُر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبردست دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت حاشیه در حاشیہ یہ عجیب بات ہے کہ میرے لئے بھی پانچ موقعے ایسے پیش آئے تھے جن میں عزت اور جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی تھی (۱) اول وہ موقع جب کہ میرے پر ڈاکٹر مارٹن کلارک نے خون کا مقدمہ کیا تھا (۲) دوسرے وہ موقع جب کہ پولیس نے ایک فوجداری مقدمہ مسٹر ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کچہری میں میرے پر چلایا تھا (۳) تیسرے وہ فوجداری مقدمہ جو ایک شخص کرم الدین نام نے بمقام جہلم میرے پر کیا تھا (۴) چوتھے وہ فوجداری مقدمہ جو اسی کرم دین نے گورداسپور میں میرے پر کیا تھا ( ۵ ) پانچویں جب لیکھر ام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی کی گئی اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگا یا تھا نا میں قاتل قرار دیا جاؤں ۔ مگر وہ تمام مقدمات میں نا مرادر ہے ۔من المؤلف