چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 262

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۲ چشمه معرفت ان تمام تقریروں اور مباحثہ کے بعد نجاشی صداقت کا قائل ہو گیا تھا اور کہا کہ اگر مہمات شاہی مہلت دیتیں تو میں خود عرب کو جاتا اور اس شاہ عرب کا چا کر بنتا۔ اس طرف ابو طالب کے مرنے کے بعد قریش نے آپ کو بہت دکھ دینا شروع کیا تب آپ نے یہ ٹھانی کہ آؤ اس شہر سے طائف کو چلیں اور وہاں کے لوگوں کو وعظ ونصیحت کریں چنانچہ آپ زید بن حارث کو اپنے ساتھ لے کر طائف کو چلے ۔ تقدیر کی بات ہے وہاں کے لوگ آپ کی وعظ سے ایسے برافروختہ ہوئے کہ انہوں نے آپ کو وہاں ٹھیرنے تک کی اجازت نہ دی اور پتھر روڑے اور اینٹیں مار مار کر اور لڑ کے پیچھے لگا کر اسی وقت شہر سے نکال دیا۔ آپ کے پاؤں ٹخنے پنڈلیاں پتھروں سے زخمی ہوگئیں ۔ پنڈلیوں کا خون پو نچھتے جاتے تھے اور آبدیدہ ہو کر اپنے خدا کی درگاہ میں نہایت عاجزی سے دعا کرنے لگے۔ کہ اے خداوند! میں اپنے ضعف و ناتوانی اور مصیبت اور پریشانی کا حال تیرے سوا کس سے کہوں مجھ میں صبر کی طاقت اب تھوڑی رہ گئی ہے مجھے اپنی مشکل حل کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی ۔ میں سب لوگوں میں ذلیل اور رسوا ہو گیا ہوں تیرا نام ارحم الراحمین ہے تو رحم فرما۔ غرض آنحضرت وہاں سے نا کام آئے اُس وقت قریش نے طیش میں آکر مکہ کے دارالندوہ میں جو اُن کا کمیٹی گھر تھا ایک جلسہ کیا جس میں قریش مکہ اور آس پاس کے قبیلوں کے کل سردار جمع ہوئے اتنا جم غفیر اس سے پہلے اس مطلب کے لئے مکہ میں کبھی جمع نہیں (۲۵۲) ہوا تھا ۔ اب ہر ایک شخص اپنی اپنی رائے ظاہر کرتا تھا کوئی کہتا تھا کہ محمد صاحب کو عمر بھر کے لئے قید کرنا چاہیے کوئی کہتا تھا کہ اسے جلا وطن کرنا چاہیے مگر فیصلہ اس پر ہوا کہ انہیں قتل کر کے ملک کو مصیبتوں سے نجات دینی چاہیے۔ اور ابو جہل نے یہ تجویز پیش کی کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی دفعہ محمد صاحب کے سینہ میں خنجر ماریں تاکہ قتل کا الزام کسی شخص پر نہ