چشمہٴ معرفت — Page 261
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۱ اور رحم سے ہمیں امید ہے کہ تو ہم غریبوں پر ظلم نہ ہونے دے گا۔ جعفر نے اس رقت بھرے دل سے اس تقریر کو ادا کیا کہ نجاشی پر اُس کا بہت اثر ہوا اور اُس کا دل اُس رسول عربی کی کچھ تعلیم سننے کا آرزو مند ہوا۔ اُس نے جعفر کو کہا کہ جو کلام تمہارے نبی پر اُترا ہے اس میں سے بھی کچھ پڑھ کر سناؤ تب جعفر نے سورہ مریم کی چند ابتدائی آیتیں جو ولادت مسیح کے باب میں تھیں پڑھ کر سنائیں کہ۔ ان آیتوں کو سن کر نیک دل شاہ جیش کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور دل سوزاں وہ بول اُٹھا کہ یہ اسی نور کی شعائیں ہیں جس کا جلوہ موسیٰ پر ہوا تھا یہ کہہ کر اس نے مظلوم مسلمانوں کو دشمنوں کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا وہ بار بار جعفر سے پوچھتا تھا کہ تم مسیح کی نسبت کیا عقیدہ رکھتے ہو۔ جعفر کہتے کہ وہ ایک برگزیدہ بندہ خدا تھا جسے اللہ نے اپنا نبی اور رسول بنا کر بنی اسرائیل کے لئے بھیجا تھا۔ حاشیہ میں نے یہ بھی ایک روایت میں دیکھا ہے کہ کفار قریش نے شاہ حبشہ کو افروختہ کرنے کے لئے یہ بھی اس کے آگے کہہ دیا تھا کہ یہ لوگ حضرت عیسی کو گالیاں دیتے اور توہین کرتے ہیں اور ان کا وہ درجہ نہیں مانتے جو آپ کے نزدیک مسلم ہے مگر نجاشی نے جس کو حق کی خوشبو آ رہی تھی ان لوگوں کی شکایت کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ مجھے تعجب ہے کہ وہی شکایتیں جو کفار قریش نے حضرت مسیح کا نام لے کر مسلمانوں کو گرفتار کرانے کے لئے نجاشی کے سامنے کی تھیں بعینہ وہ تہمتیں اس وقت کے مخالف مسلمان ہم پر کر رہے ہیں اگر ہم نے یہ کہا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں تو اس میں ہمارا کیا گناہ ہے؟ ہمارے وجود سے صد ہا برس پہلے خدا تعالی ان کی موت قرآن شریف میں ظاہر کر چکا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں ان کو فوت شدہ نبیوں میں دیکھ چکے ہیں۔ عجیب تر تو یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب ان کی موت کے قائل بھی ہو چکے ہیں اور کتاب تاریخ طبری کے صفحہ ۳۹ے میں ایک بزرگ کی روایت سے حضرت عیسی کی قبر کا بھی حوالہ دیا ہے جو ایک جگہ دیکھی گئی یعنی ایک قبر پر پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ میسی کی قبر ہے۔ یہ قصہ ابن جریر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے مگر افسوس ! کہ پھر بھی متعصب لوگ حق کو قبول نہیں کرتے ۔ من مؤلف هذا الكتاب ۲۵۱