چشمہٴ معرفت — Page 254
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۴ چشمه معرفت ۲۴۴ کے لئے وہ لوگ پسند کرتے تھے اس کا بدلہ لینے کے لئے حکم دے دیا۔ اسی بنا پر اسلام میں یہ رسم جاری ہوئی کہ کافروں کی عورتیں لونڈی کی طرح رکھی جائیں اور عورتوں کی طرح استعمال کی جائیں یہ تو انصاف اور طریق عدل سے بعید تھا کہ کا فر تو جب کسی مسلمان عورت کو اپنے قبضہ میں لاویں تو اُس کو لونڈی بناویں اور عورتوں کی طرح اُن کو استعمال کریں اور جب مسلمان اُن کی عورتوں اور اُن کی لڑکیوں کو اپنے قبضہ میں کریں تو ماں بہن کر کے رکھیں ۔ خدا بے شک علیم ہے مگر وہ سب سے زیادہ غیرت مند ہے اُس کی غیرت ہی تھی جو نوح کے طوفان کا باعث ہوئی۔ اُسی کی غیرت نے ہی انجام کار فرعون اور اُس کے تمام لشکر کو دریا میں غرق کر دیا۔ اُسی کی غیرت نے لوط کی قوم پر زمین کا تختہ الٹا دیا۔ اور اُسی کی غیرت اب جابجا ہیبت ناک زلزلے دکھلا رہی ہے اور لاکھوں انسانوں کو طاعون سے ہلاک کر رہی ہے اور اسی کی غیرت نے لیکھرام کو جو بد زبانی سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا اُسی کی زبان کی چھری سے آخر لوہے کی چھری غیب سے پیدا کر دی اور جواناں مرگ مارا اور بڑے دُکھ سے اُس کو اُس کی قوم میں سے اُٹھا لیا اور کوئی اس کو بچانہ سکا اور خدا نے اپنی پیشگوئی اُس میں پوری کردی۔ پس اسی طرح جب عرب کے خبیث فطرت ایڈا اور دُکھ دینے سے باز نہ آئے اور نہایت بے حیائی اور بے غیرتی سے عورتوں پر بھی فاسقانہ حملے کرنے لگے تو خدا نے اُن کی تنبیہ کے لئے یہ قانون جاری کر دیا کہ اُن کی عورتیں بھی اگر لڑائیوں میں پکڑی جائیں تو ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے۔ پس یہ تو بموجب مثل مشهور که عوض معاوضه گله ندارد کوئی محل اعتراض نہیں۔ جیسی ہندی میں بھی یہ مثل مشہور ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی مگر یہ دوسری بات در حقیقت نہایت بے رحمی، دیوٹی اور بے حیائی کا کام ہے کہ انسان اپنی عورت سے محض لڑکا پیدا ہونے کی خواہش سے زنا کر اوے یہ ایک ایسی ناپاکی کی راہ اور گندی نظیر ہے کہ تمام دنیا میں اگر تلاش کرو تو ہرگز ہر گز اُس کی نظیر نہیں ملے گی۔ پھر ما سوا اس کے اسلام اس بات کا حامی نہیں کہ کافروں کے قیدی غلام اور لونڈیاں بنائی جائیں بلکہ غلام آزاد کرنے کے بارہ میں اس قدر قرآن شریف میں تاکید ہے کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ غرض ابتدا غلام لونڈی بنانے کی