چشمہٴ معرفت — Page 241
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۱ چشمه معرفت اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ بادشاہ کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے کہ مثلاً اگر کسی بادشاہ کی رعایا پر لوگ ڈاکہ ماریں اور اُن کا مال لوٹ کر لے جاویں یا نقب لگا کر مال لے جاویں یا طمع نفسانی سے لوگوں کو قتل کریں تو کیا اس بادشاہ کا فرض نہیں ہوگا کہ ایسے مفسد لوگوں پر چڑھائی کرے اور ایسے مفسد لوگوں کو قرار واقعی سزا دے کر ملک میں امن قائم کر دے سو یہ لڑائی اہل کتاب سے اس وجہ سے نہیں تھی کہ اُن کو مسلمان کیا جائے بلکہ اس وجہ سے تھی کہ اُن کی شرارتوں سے ملک کو بچایا جائے اس بات کا قرآن شریف میں بتفریح ذکر ہے کہ اُن کی بد چلنی نہایت درجہ تک پہنچ گئی تھی چنانچہ ان بدچلنیوں کے بارے میں قرآن شریف میں یہ آیات موجود ہیں یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (۲۳۲) إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابِ اليه (الجزء نمبر 1) سورة التوبة ) ( ترجمہ ) مسلمانو! اہل کتاب کے اکثر عالم اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق کھاتے ہیں یعنی نا جائز طور پر اُن کا رو پیدا اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں اور خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے رہتے ہیں اور اس طرح پر ناجائز طور پر لوگوں کے مال لے کر سونا اور چاندی جمع کر لیتے ہیں اور خدا کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہیں کرتے سو اُن کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ پھر ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی بد چلنی کی نسبت خوب وضاحت سے فرماتا ہے اور وہ آیات یہ ہیں ۔ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ مَنْ إِنْ تَأْمَنُهُ بِقِطَارٍ يُؤَدِّة إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَا يُؤَدِّةٍ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَابِمَا ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِينَ سَبِيْلُ وَ يَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ الجزو نمبر ۳ سورة آل عمران ۔ ( ترجمہ ) اور اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر اُن کے پاس زر نقد کا ایک ڈھیر بھی امانت رکھی جائے تو جب تو مانگے وہ سب مال تیرے حوالہ کریں گے اور بعض اہل کتاب ایسے ہیں کہ اگر ایک اشرفی بھی تو اُن کے حوالہ بطور التوبة : ٣٤ ال عمران: ۷۶