چشمہٴ معرفت — Page 236
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۶ چشمه معرفت ایمان کا تو ہنوز تمہارے دلوں میں گذر تک نہیں ہوا۔ سوخدا نے یہ معافی محض اطاعت کے لئے دی تھی تا ملک میں سے بغاوت دور ہو اور اس طرح پر اُن کو سوچنے سمجھنے کا زیادہ موقعہ ملے اور در حقیقت اس معافی سے کفار کو بڑا فائدہ ہوا۔ پہلے تو انہوں نے اطاعت کر لی اور مقابلہ چھوڑ دیا اور پھر خدا تعالیٰ کے کلام پر غور کر کے اور خدا کی نصرت اور فضل کے تازو نشان دیکھ کر اُن کے دلوں میں ایمان رچ گیا اور وہ لوگ ایسے کامل الایمان ہو گئے کہ فرشتوں کے ساتھ ہاتھ جا ملائے۔ ہمارے مخالف جو خواہ نخواہ اسلام پر جبر کا الزام لگاتے ہیں اُن کو یہ دو باتیں ضرور سوچنی چاہئیں ۔ (۱) اول یہ کہ جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے صحابہ کے دلوں میں تبدیلی پیدا ہوئی اور جس قدر وہ بت پرستی اور ہر ایک مشرکانہ رسم سے متنفر ہو گئے کیا ایسی تبدیلی اور ایسی شرک سے بیزاری اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے کہ جو جانتا ہے کہ مجھے جبراً مسلمان کیا گیا ہے (۲) دوسری وہ تائید اسلام جو انہوں نے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر دکھلائی یہاں تک کہ پچاس برس کی مدت ابھی نہیں گذری تھی کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہوگیا اور مختلف ممالک میں پھیل گیا اور انہوں نے اسلام کی تائید میں وہ کام حیرت انگیز دکھائے کہ جب تک انسان کا دل کسی اپنے ہادی کی راہ میں فدا شدہ نہ ہو ایسے کام ہرگز دکھلا نہیں سکتا ۔ تاریخ پڑھنے ہید حاشیہ: اس جگہ آریہ صاحبوں کو چاہیے کہ اپنے ایک ہندو بھائی پر ہمو کی کتاب یعنی سوانح عمری حضرت محمد صاحب صفحہ ۳۴ غور سے مطالعہ کریں۔ منہ محققین یورپ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جس صدق دل اور دلی جوش سے عربوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کیا وہ ایک فوق العادت امر ہے اور اسی بچے ایمان اور اخلاص کا نتیجہ تھاکہ تھوڑی ہی مدت میں ان کو دنیا میں وہ فتوحات حاصل ہوئیں جو آج تک کسی قوم کو حاصل نہیں ہوئیں اور ایک حیرت ناک امر یہ ان سے ظہور میں آیا کہ یا تو وہ لوگ اُمی اور نا خواندہ تھے اور یا علوم وفنون میں وہ فوقیت حاصل کی جو قدیم علموں کو زندہ کیا اور بہت سے نئے علوم ایجاد کئے۔ عراق اور شام ، اسپین اور دیگر ممالک اسلامیہ کی یونیورسٹیاں مشہور تھیں (باقی دیکھو صفحہ ۲۳۷ پر )